شمالی وزیرستان میں بمباری سے ’آٹھ شدت پسند ہلاک‘

شوال میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کافی عرصے سے جاری ہیں

،تصویر کا ذریعہPAF

،تصویر کا کیپشنشوال میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کافی عرصے سے جاری ہیں

پاکستانی فوج نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں فضائی کارروائیوں میں کم از کم آٹھ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے اتوار کو شوال اور دتہ خیل کے علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں جہاں آٹھ شدت پسند مارے گئے وہیں ان کے کئی ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ شوال شمالی وزیرستان کا وہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جہاں گذشتہ برس اگست سے پاکستانی فوج شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائیاں کر رہی ہے جس میں اسے پاکستانی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔

ماضی میں بھی پاکستان کے جنگی طیارے اس علاقے کو نشانہ بناتے رہے ہیں اور ان حملوں میں درجنوں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ شوال کا علاقہ امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا بھی نشانہ بنتا رہا ہے۔