2015 میں دہشت گردوں کا بڑا نشانہ خیبر پختونخوا

،تصویر کا ذریعہGetty
پشاور میں واقع آرمی پبلک سکول پر حملے کے فوراً بعد نیشنل ایکشن پلان بنا اور اب تک ملک بھر سے ہزاروں دہشت گردوں کے خاتمے اور گرفتاریوں کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم دوسری جانب ٹھیک 13 ماہ کے عرصے میں ملک بھر میں چند بڑے حملے بھی ہوئے۔
گذشتہ روز پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور پشاور سے ملحق سرحد پر قائم خاصہ دار فورس کی چوکی پر خود کش حملے میںاسسٹنٹ لائن افسر اور قبائلی صحافی سمیت دس افراد ہلاک 23 زخمی ہوئے تھے۔
16 جنوری کو پشاور چھاؤنی اور اس کے قریبی علاقے نوتھیہ کے سکول بند کر دیےگئے جس کے بعد افواہوں نےگردش شروع کر دی اور شہر بھر میں کوئی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سکول بند ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں سنہ 2015 کے دوران کل سات بڑے حملے ہوئے جن میں سے چار صوبہ خیبر پختونخوا اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقےمیں ہوئے۔
گذشتہ برس ملک بھر میں پہلا بڑا حملہ 13 فروری 2015 کو پشاور کے علاقے حیات آباد میں موجود امامیہ مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہوا جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
13 مئی کو صفورا <link type="page"><caption> گوٹھ کراچی میں بس پر حملے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/05/150513_khi_safoora_bus_attack_zs" platform="highweb"/></link> کے نتیجے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
17 اگست کو پنجاب کے صوبائی وزیر شجاع خانزادہ کے اٹک میں ڈیرے کو نشانہ بنایا گیا جس میں وزیر سمیت کل 24 افراد ہلاک ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پشاور کے نواح میں واقع <link type="page"><caption> پاکستانی فضائیہ کے کیمپ پر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/09/150918_badaber_paf_attack" platform="highweb"/></link> 18 ستمبر کو ہونے والےحملے میں فضائیہ اور برّی فوج کے 26 اہلکاروں سمیت 30 افراد ہلاک ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں 13 حملہ آور بھی مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قبائلی علاقے <link type="page"><caption> کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار کے بازار</caption><url href="parachanar_blast_kpk_tk" platform="highweb"/></link> میں ہونے والے بم دھماکے میں 24 افراد ہلاک ہوئے۔
30 دسمبر 2015 کو <link type="page"><caption> مردان میں نادرا کے دفتر کے قریب ایک خودکش</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/12/151229_mardan_nadra_blast_zs" platform="highweb"/></link> بم دھماکے میں پولیس کے مطابق کم سے کم 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
سال 2016 کے آغاز پر صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیو سنٹر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 14 ہلاکتیں ہوئیں۔
جنوبی ایشا میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے واقعات کو مرتب کرنے والے ادارے ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق ادارے ویب سائٹ پر دیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بم حملوں سمیت پرتشدد واقعات کی تعداد 322 تھی جن میں 492 ہلاکتیں ہوئیں۔
بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ برس چھ خودکش حملوں سمیت کل 40 بم حملے کیے گئے جن میں کل 77 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







