باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کا حملہ

پاکستان کے شہر چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کے حملے اور جوابی کارروائی کے بعد کے مناظر

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کی صبح مسلح شدت پسندوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار دہشت گردوں کو فوج نے مار گرایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کی صبح مسلح شدت پسندوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار دہشت گردوں کو فوج نے مار گرایا ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی عمارت پر اب فوج کا کنٹرول ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی کی عمارت پر اب فوج کا کنٹرول ہے۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ اس حملے میں 20 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ اس حملے میں 20 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی فوج کی سریع الحرکت فورس کے دستے پشاور سے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا۔
،تصویر کا کیپشنحملے کی اطلاع ملتے ہی فوج کی سریع الحرکت فورس کے دستے پشاور سے جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر آپریشن شروع کر دیا۔
ایک عینی شاہد طالب علم نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ حملہ آور یونیورسٹی کے عقب میں واقع گیسٹ ہاؤس کی جانب سے داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی۔
،تصویر کا کیپشنایک عینی شاہد طالب علم نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ حملہ آور یونیورسٹی کے عقب میں واقع گیسٹ ہاؤس کی جانب سے داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق حملے کے نتیجے میں اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد یونیورسٹی کی عمارت میں محصور ہوگئی تھی۔
ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر بھی شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد چارسدہ پہنچے ہیں اور انھوں نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد چارسدہ پہنچے ہیں اور انھوں نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے گورنر مہتاب خان عباسی کے مطابق یونیورسٹی کے اندر 54 پولیس اہلکار تعینات تھے اور اس کے علاوہ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز بھی موجود تھے اور ان اہلکاروں کی جانب سے بروقت جوابی کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنخیبر پختونخوا کے گورنر مہتاب خان عباسی کے مطابق یونیورسٹی کے اندر 54 پولیس اہلکار تعینات تھے اور اس کے علاوہ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈز بھی موجود تھے اور ان اہلکاروں کی جانب سے بروقت جوابی کارروائی کی وجہ سے دہشت گردوں کو گھیر لیا گیا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے چارسدہ میں شدت پسندوں کے حملے پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سوگ کے موقعے پر تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے چارسدہ میں شدت پسندوں کے حملے پر تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ سوگ کے موقعے پر تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
باچا خان یونیورسٹی چارسدہ شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ جس وقت یونیورسٹی پر حملہ ہوا تو وہاں باچا خان کی برسی کے موقعے پر ایک مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔
،تصویر کا کیپشنباچا خان یونیورسٹی چارسدہ شہر کے مضافات میں واقع ہے۔ جس وقت یونیورسٹی پر حملہ ہوا تو وہاں باچا خان کی برسی کے موقعے پر ایک مشاعرہ منعقد ہو رہا تھا جس میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔