’یہ ایک اور اے پی ایس تو نہیں؟‘

ٹوئٹر پر حملے کی مذمت اور دعائیں نظر آ رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنٹوئٹر پر حملے کی مذمت اور دعائیں نظر آ رہی ہیں
    • مصنف, شروتی اڑورہ
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹوئٹر کے صارفین باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کا گذشتہ سال آرمی بپلک سکول پشاور میں ہونے والے حملے سے موازنہ کرتے رہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں ہونے والے حملے میں 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فوج نے کارروائی کر کے چار دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔

بدھ کی صبح جوں جوں حملے کی تفصیلات سامنے آنے لگیں پاکستان میں ٹوئٹر صارفین کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جانے لگا کہ ’کہیں یہ حملہ پشاور کے آرمی سکول حملے جیسا تو نہیں‘ جس میں 130 سے زیادہ طلبہ مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ پشاور آرمی سکول پر یہ حملہ 16 دسمبر سنہ 2014 کو ہوا تھا اور تحریک طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

ٹوئٹر پر #Charsadda #BachaKhanUniAttack #PrayForCharsadda ’چارسدہ،‘ ’باچاخان یونیورسٹی حملہ،‘ ’چارسدہ کے لیے دعا‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے رہے۔

معروف پاکستانی صحافی عمر قریشی نے ٹویٹ کیا: ’ہمیں امید اور دعا کرنی چاہیے کہ یہ ایک اور اے پی ایس نہ ہو!‘

حملے کے بعد کئی ایمبولینسوں کو یونیورسٹی سے نکلتے دیکھا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد کئی ایمبولینسوں کو یونیورسٹی سے نکلتے دیکھا گیا

تحریک نام کے ایک صارف نے لکھا: ’محصوروں کے لیے دعائيں۔ پھر سے کوئی اے پی ایس نہ ہو۔‘

ایک دوسری ٹوئٹر صارف ثمرہ ہاشمی نے لکھا: ’ایک بار پھر پاکستان دنیا بھر میں غلط وجوہات کی بنا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ امید کہ یہ پھر سے 16 دسمبر نہ ہو۔‘

عارض شمیم نے لکھا: ’خدشہ ہے کہ یہ اے پی ایس سے زیادہ برا ہو گا۔ لیکن اس کے لیے کسے مورد الزام ٹھہرایا جائے؟‘

ڈاکر ہاؤز نام کے ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا: ’کوئی بھی مذہب، کوئی بھی تنازع آپ کو کسی مقدس مقام اور تعلیمی ادارے میں کسی کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ انتقام ہے۔‘

زیادہ تر ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس کی مذمت جاری ہے اور دعاؤں کی گزارش کی جا رہی ہے۔

ایک صارف نے لکھا: ’تم لوگ جتنا ہمیں تعلیم کے حصول اور عدم تشدد سے روکو گے، ہم اس پر اتنی ہو توجہ مرکوز کریں گے۔‘