’بچوں اور والدین نے اسی سانحے کو ہتھیار بنا لیا‘

پرنسپل نے کہا کہ اس سال سکول انتظامیہ کو وقت سے پہلے داخلے بند کرنا پڑے کیونکہ نشستوں کی کمی اور منع کرنے کے باوجود بھی درخواستیں آتی رہیں ہیں
،تصویر کا کیپشنپرنسپل نے کہا کہ اس سال سکول انتظامیہ کو وقت سے پہلے داخلے بند کرنا پڑے کیونکہ نشستوں کی کمی اور منع کرنے کے باوجود بھی درخواستیں آتی رہیں ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

گذشتہ سال 16 دسمبر کو طالبان حملے میں نشانہ بننے والے آرمی پبلک سکول پشاور کے جونئیر سیکشن کی پرنسپل سائرہ داؤد آفریدی نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے کے بعد ان کا خیال تھا کہ شاید سکول میں طلبا کی تعداد میں عمومی طور پر کمی واقع ہوگی لیکن حیران کن طور پر اس ایک سال کے دوران داخلوں کی شرح میں کمی کی بجائے بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

<link type="page"><caption> ’فوج بتائے کہ طلبا کے تحفظ میں غفلت کہاں ہوئی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151216_aps_responsibility_questions_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’دہشت گردوں نے ہماری خوبصورت زندگی تباہ کر دی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151215_aps_ahmaed_nawaz_family_ads.shtml" platform="highweb"/></link>

پشاور میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سائرہ داؤد نے کہا کہ اس سال آرمی پبلک سکول پشاور میں ریکارڈ داخلے ہوئے ہیں جو اس سے پہلے سکول کے تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آئے۔

’ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ اتنے سارے طلبا ایک ایسے تعلیمی ادارے میں داخلے کے لیے آئیں گے جہاں ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہو چکا ہے لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ داخلہ لینے والوں میں بیشتر ان بچوں کے چھوٹے بہن بھائی یا رشتہ دار ہیں جو اس سانحے میں ہلاک ہوئے تھے۔‘

پرنسپل نے کہا کہ اس سال سکول انتظامیہ کو وقت سے پہلے داخلے بند کرنا پڑے کیونکہ نشستوں کی کمی اور منع کرنے کے باوجود بھی درخواستیں آتی رہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اے پی ایس کی ہر کلاس میں 30 سے زیادہ طلبا نہیں ہوتے لیکن یہ تعداد اب 37 سے 40 تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

سائرہ داؤد 16 دسمبر کو آرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کی چشم دید گواہ بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ 16 دسمبر کا حملہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا جسے شاید کبھی نہیں بھلایا جا سکے لیکن سکول انتظامیہ نے ایک حکمت عملی کے تحت طلبا اور ان کے والدین کو اذیت ناک اور تکلیف دہ صورتِ حال سے نکالنے کے لیے دن رات ایک کیا اور اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔

پرنسپل کے مطابق اس ایک سال کے دوران بچوں کی ہر لحاظ سے تربیت کی گئی ہے جس سے اب طلبا کی سوچ میں کافی حد تک پختگی بھی آگئی ہے
،تصویر کا کیپشنپرنسپل کے مطابق اس ایک سال کے دوران بچوں کی ہر لحاظ سے تربیت کی گئی ہے جس سے اب طلبا کی سوچ میں کافی حد تک پختگی بھی آگئی ہے

’ہمیں یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ ایک طرف اس واقعے سے اتنا بڑا نقصان ہوگا تو دوسری جانب اس سے طلبا اور ان کے والدین میں ایک نیا حوصلہ بڑھے گا اور وہ سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ طلبا اور ان کے والدین بہت جلد سکتے کی کیفیت سے باہر نکل آئے۔

انھوں نے مزید بتایا ’طلبا اور ان کے والدین کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہی کہ انھوں نے اس سانحے کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے اور اب وہ کسی قسم کے خطرے سے ڈرنے والے نہیں۔‘

پرنسپل کے مطابق اس ایک سال کے دوران بچوں کی ہر لحاظ سے تربیت کی گئی ہے جس سے اب طلبا کی سوچ میں کافی حد تک پختگی بھی آ گئی ہے اور وہ ہر قسم کی خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اے پی ایس کی سکیورٹی سے متعلق بات کرتے ہوئے پرنسپل نے کہا کہ پہلے کے برعکس اب سکول کی عمارت کی سکیورٹی میں کافی حد تک بہتری لائی گئی ہے بلکہ سکول کا سارا نقشہ ہی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول سکول میں جدید آلات نصب کیے گئے ہیں جس کا مقصد آئندہ اس قسم کے واقعات کا بروقت روکنا اور ان سے نمٹنا ہے۔

انھوں نےکہا کہ جس جگہ شدت پسندوں کی جانب سے بچوں کا قتل عام کیا گیا تھا وہاں نیا اور جدید قسم کا سپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا گیا ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی یاد میں سکول کے احاطے میں ایک شاندار قسم کی یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے جس پر ہلاک ہونے والے طلبا اور سٹاف کے نام لکھے گئے ہیں۔

’اے پی ایس شہدا‘ کے یاد میں تعمیر کیا گیا یادگار پاکستان کے ایک معروف آرکیٹک نے ڈیزائن کیا ہے۔