رینجرز کو اختیارات دینے پر اپوزیشن کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سندھ میں رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مکمل اختیارات دینے کے خلاف بدھ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی نے بھرپور احتجاج کیا اور وفاق کے اس عمل کے خلاف ایوان کی کارروائی سے واک آوٹ کر گئے۔
اس احتجاج میں صوبہ سندھ سے نمائندگی رکھنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے حصہ نہیں لیا۔
سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے سندھ میں آپریشن جاری رکھنے سے متعلق مختلف آپشن دینے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وفاق نے پورس کے ہاتھیوں کی طرح سندھ پر حملہ کیا ہے اور یہ حملہ راجہ پورس کے ہاتھیوں کی طرح ہی ناکام ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ سندھ میں شدت پسندوں اور سماج دشمن عناصر کے خلاف جاری آپریشن میں صوبائی حکومت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کو دہشت گردی کے ساتھ ملانا درست نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا مزید کہنا تھا کہ رینجرز کو اختیارات دینے کے معاملے پر وفاق اور صوبے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما سعید غنی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان خود کو شہنشاہ اور دیگر اداروں کو رعایا سمجھتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر عوام میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی شدت پسندوں کی حمایت کر رہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی معاملے میں مداخلت کر کے آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت سندھ میں رینجرز کو اختیارات دینے کے معاملے کو عدالتوں میں لےکر جانے کی بجائے مل بیٹھ کر حل کرنا چاہتی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر الیاس بلور کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت صوبائی خودمختاری کے معاملے پر پاکستان پیپپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ صوبائی معاملات میں بےجا مداخلت سے وفاق کی اکائیاں کمزور ہوں گی جس کا نقصان ملک کو ہوگا۔







