گورنر راج لگائیں مگر دھمکیاں نہ دیں: خورشید شاہ

توسیع نے ملنے کی وجہ سے رینجرز کراچی میں بغیر قانونی چھتری کے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہafp

،تصویر کا کیپشنتوسیع نے ملنے کی وجہ سے رینجرز کراچی میں بغیر قانونی چھتری کے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں صوبہ سندھ کی صوبائی حکومت کی طرف سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع دینے میں ہچکاہٹ کا مظاہرہ کرنے کا معاملہ زیر بحث رہا۔

پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف اور سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ اگر احتساب کرنا ہے تو سب کا ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس آپشنز ہیں تو استعمال کرے اور گورنر راج لگانا ہے تو وہ بھی لگائیں مگر دھمکیاں نہ دی جائیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اگر وزیر داخلہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ویڈ یو لانا چاہتے ہیں تو ضرور لائیں مگر اس کے ساتھ پنجاب کے صوبائی وزیر رانا مشہود کی ویڈیو بھی سامنے لائی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرے اور جس کا جو کام ہے اسے وہی کرنا چاہیے، فوج کاکام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ اُن کی جماعت نے کبھی رینجرز کے اختیارات میں رکاوٹ نہیں ڈالی، ہم نے تو اپنےاختیارات بھی رینجرز کو دے دیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

انھوں نے کہا کہ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ ’کیسے ہم نے جمہوریت کے لیے جیلیں اور جلاوطنی کاٹی اور کوڑے کھائے، اس وقت بھی کچھ لوگ گھروں میں بیٹھ کر اپنی سیاست کو زندہ رکھ رہے تھے۔‘

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ہم نے جب بھی ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈالا ا ور ایک دوسرے کو چور کہنا شروع کیا تو اس کا فائدہ کوئی آمر اٹھا کر ’میرے عزیز ہم وطنو! کہہ کر اقتدار پر قابض ہوگیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان وفاق میں سابق حکمراں جماعت اور سندھ میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پر برس پڑے۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاق نے کبھی بھی سندھ یا اس کے کسی ادارے پر حملہ نہیں کیا۔

اُنھوں نے اس جماعت کے کسی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ لوگ اپنے غلط کام چھپانے کے لیے سندھ اور پاکستان کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کے دور میں حاجیوں سے بھی زیادہ پیسے لیکر کرپشن کی گئی۔