آپ کے بھائی کی دھمکی !

رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق میں سرد جنگ قائم ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنرینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر سندھ حکومت اور وفاق میں سرد جنگ قائم ہے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں جب سنہ 1989 میں پہلی بار رینجرز کو امن و امان کے قیام میں مدد دینے کے لئے حکومتِ سندھ نے طلب کیا تو اس وقت مرکز میں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور چوہدری اعتزاز احسن وفاقی وزیرِ داخلہ تھے۔وہ دن اور آج کا دن 26 برس گذر گئے، وفاق میں 13 وزرائے داخلہ اور سندھ میں 14 حکومتیں گذر گئیں۔ مگر رینجرز کیا آئے کہ پھر نہ گئے۔ پاکستان کا کوئی اور شہر ایسا نہیں جہاں رینجرز کا اتنا طویل اور مسلسل قیام ہو۔

رینجرز کو 26 برس پہلے بلایا بھی قائم علی شاہ نے تھا اور آج بھی قائم علی شاہ ہی وزیرِ اعلیٰ ہیں مگر مجبوری یہ ہے کہ رینجرز بھلے اگلے 50 برس بھی کراچی میں رہیں پولیس کے برعکس ان کی حیثیت مہمان کی ہی رہے گی اور ان کی مدت و مینڈیٹ کا تعین بھی صوبائی حکومت ہی کرے گی۔ بھلے یہ حکومت کسی کی بھی ہو۔

جب پہلی بار رینجرز کو طلب کیا گیا تو خیال یہ تھا کہ امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوتے ہی انھیں اصل کام یعنی سرحدوں کی حفاظت پر بھیج دیا جائےگا۔اس دوران رینجرز کی موجودگی سے ملنے والی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس کی تنظیمِ نو کر لی جائے گی تاکہ کل کلاں رینجرز طلب کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔

 برسوں میں رینجرز کی موجودگی کے باوجود کراچی میں دس ہزار سے زائد شہری قتل ہوئے
،تصویر کا کیپشن برسوں میں رینجرز کی موجودگی کے باوجود کراچی میں دس ہزار سے زائد شہری قتل ہوئے

لیکن آج بھی پولیس کی کم و بیش وہی حالت ہے جو 26 برس پہلے تھی۔ دونوں اداروں کا مقصد کراچی میں قیامِ امن کا حصول تھا اور ہے لیکن دونوں اداروں میں پیشہ ورانہ رابطہ کاری اور تعاون اتنا ہی ہے جتنا کسی برہمن اور ہریجن کے درمیان ہو سکتا ہے۔

ان 26 برسوں میں رینجرز کی موجودگی کے باوجود کراچی میں دس ہزار سے زائد شہری قتل ہوئے۔حالانکہ 1992 اور 1994 کے بعد کراچی اس وقت تیسرے آپریشن سے گذر رہا ہے۔ان 26 سال میں صوبہ سندھ کے بجٹ میں امن و امان کے قیام پر اگر اوسطاً دس ارب روپے سالانہ بھی خرچ ہوئے ہوں تو اس اعتبار سے اب تک کم ازکم 260 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کراچی شہر کی گردن پر سے اگر موجودہ آپریشن کا گھٹنا ہٹا لیا جائے تو 24 گھنٹے بعد ہی شہر ابتری کے اسی مقام پر پہنچ جائے گا جہاں دو برس پہلے آپریشن شروع ہونے سے پہلے تھا۔

یہ بھی کمال حسنِ اتفاق ہے کہ پچھلے 26 برس میں جب بھی حکومتِ سندھ نے رینجرز کو ’ آپ کا تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ‘ کہنے کی ٹھانی امن و امان جانے کیوں تیزی سے بگڑنے لگا اور صوبائی حکومت کو پھر گھبرا کر رینجرز کا دامن تھامنا پڑ گیا۔

رینجرز اس وقت کسی قانونی چھتری کے بغیر کراچی میں متحرک ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرینجرز اس وقت کسی قانونی چھتری کے بغیر کراچی میں متحرک ہیں

اس وقت مرکز اور صوبے میں رینجرز کی اگلی قانونی مدت میں توسیع کے معاملے پر زبانی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ یہ توسیع ایک ہفتے پہلے ( چھ دسمبر ) کو ختم ہوچکی لہذا رینجرز اس وقت کسی قانونی چھتری کے بغیر کراچی میں متحرک ہیں۔ چونکہ اس وقت وفاقی حکومت اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں اور کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں لہذا مرتا کیا نہ کرتا رینجرز کے مینڈیٹ میں صوبائی حکومت توسیع کر ہی دے گی۔

چنانچہ اس تناظر میں وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی یہ دھمکی غیر ضروری ہے کہ اگر حکومتِ سندھ نے رینجرز کے قیام کی مدت میں توسیع نہیں کی تو وفاقی حکومت کے پاس اور بھی آپشنز ہیں ( یعنی گورنر راج بھی لگ سکتا ہے۔) اس دھمکی کے بعد ایک خامخواہ کی اڑچن یہ پیدا ہوگئی ہے کہ اب اگر حکومتِ سندھ فوری طور پر رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کرتی ہے تو چوہدری نثار علی کہہ سکتےہیں کہ دیکھا ’ آپ کے بھائی کی دھمکی نے کام کر دکھایا۔‘

جب پہلی بار کراچی میں رینجرز کو طلب کیا گیا تو خیال یہ تھا کہ امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوتے ہی انھیں اصل کام یعنی سرحدوں کی حفاظت پر بھیج دیا جائےگا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجب پہلی بار کراچی میں رینجرز کو طلب کیا گیا تو خیال یہ تھا کہ امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہوتے ہی انھیں اصل کام یعنی سرحدوں کی حفاظت پر بھیج دیا جائےگا

اور اگر حکومتِ سندھ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل صوبائی خودمختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اڑ جاتی ہے کہ ’یہ اختیار مہمان کو نہیں میزبان کو ہے کہ مزید کتنے دن مہمان کو برداشت کر سکتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس اڑیل پن کے سبب سندھ کی حد تک تو صوبائی حکومت کی مردانگی کی وقتی واہ واہ ہوجائے مگر پھر وفاق اور صوبے کے درمیان ایک مستقل کھچاؤ کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔

لہذا یہ ذمہ داری اب وزیرِ اعظم نواز شریف کی ہے کہ وہ اپنے وزیرِ داخلہ کو مفت کی پوائنٹ سکورنگ سے روکیں۔ کیونکہ بات عزتِ نفس پر آجائے تو صوبہ تو صوبہ بلی بھی پنجے نکال لیتی ہے۔

مگر کراچی کا امن کیا رینجرز کی موجودگی سے ہی مشروط رہے گا ؟ اگر یہی کارِ مملکت ہے تو بے کار مملکت کیا ہوتی ہے ؟