’اب پولیس اتنی بااختیار ہوچکی ہے کہ وہ شہر کنٹرول کر سکے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پیر کے روز اسمبلی کے اندر اور باہر رینجرز کی حمایت میں احتجاج کیا گیا جس میں تحریک انصاف آگے آگے رہی ہے۔
سندھ اسمبلی کے رواں سیشن کے تیسرے روز کا اجلاس پیر کو ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ دعا اور سوال جواب کے وقفے کے بعد مسلم لیگ فنکشنل، تحریک انصاف اور مسلم لیگ کے اراکین نے ایجنڈے میں شامل رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملات اٹھایا۔
اپوزیشن کے اراکین کے احتجاج پر سپیکر آغا سراج درانی نے انھیں نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی لیکن اراکین ڈائس کے قریب پہنچ کر احتجاج کرتے رہے جس کے بعد سپیکر نے اجلاس کل صبح تک ملتوی کر دیا۔
وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اپوزیشن کے احتجاج پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیت اکثریت کو ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کر رہی ہے جو جمہوری آداب کے خلاف ہے۔
’جس طرح انھوں نے سپیکر کی توہین کی کوشش کی یہ تو انتہائی افسوسناک ہے، ہم نے اپنے اراکین کو روکا تھا کہ وہ ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے ہاؤس کا تقدس پامال ہو۔ لیکن اپوزیشن نے پامال کیا لیکن پھر بھی ہم نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔‘
سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ رینجرز کے ساتھ کوئی بھی تضاد نہیں ہے، وہ کل بھی ان کے ساتھ تھے اور ساتھ رہیں گے باقی جو معاملات ہیں وہ حل ہو جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سندھ اسمبلی میں اپوزیشن رہنما شہریار مہر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ سوال کر رہے تھے کہ آخر رینجرز کے اختیارات میں توسیع کیوں نہیں کی جا رہی۔
’شہر میں امن و امان کی کیا صورت حال ہے مگر وزیر اعلیٰ پوری کابینہ کے ساتھ سوئے ہوئے ہیں اور جب کوئی پوچھتا ہے تو کہتے ہیں کہ کون سا آسمان گر پڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ سپیکر غیر ضروری بزنس بھی اٹھا رہے تھے لیکن اس اہم معاملے کو نہیں پیش کر رہے تھے جس پر انھوں نے احتجاج کیا تو اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
تحریک انصاف کے رکن خرم شیرزمان نے وفاقی حکومت کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں یہ معاملہ سندھ اسمبلی میں آنا ہی نہیں چاہیے۔
’یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ رینجرز کو غیر مشروط اختیارات دے لیکن ان کی نیت یہ ہی ہے کہ افواج پاکستان کی توہین کرنا اور معاملات کو اسی طرح سے چلانا۔‘
خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ’ساری اپوزیشن ساتھ تھی سوائے ایم کیو ایم کے۔ اور وہ نہیں جانتے کہ ان کی کیا خواہشات تھیں۔ لیکن منگل کو بھی تحریک انصاف، مسلم لیگ ف اور مسلم لیگ ن دوبارہ اسمبلی میں کھڑے ہوں گے اور یہ مطالبہ کریں گے۔‘
ایم کیو ایم کے پارلیمانی رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ فنکشنل سے تمام معاملات طے ہو چکے تھے لیکن انھوں نے معلوم نہیں ہے کہ جلدبازی کا مظاہرہ کیوں کیا ہے۔
’اگر یہ نیشنل ایکشن پلان ہے کراچی ایکشن پلان نہیں تو پورے صوبے پر یکساں عمل ہونا چاہیے، اس کو پنجاب میں کیوں نہیں نافذ کیا جا رہا اور خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں کیا جا رہا جہاں مسلسل بم دھماکے ہو رہے ہیں؟‘
دوسری جانب سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سندھ میں ایسا کوئی ناگہانی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ اعتماد سازی کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔ اب پولیس بھی اتنی بااختیار ہوچکی ہے کہ وہ شہر کو کنٹرول کر سکے۔‘
’اگر 1989 سے رینجرز ہے تو اس سے تو کہیں بڑھ کر مارشلائی حکومتیں تھیں، افواج پاکستان خود تھیں، لیکن پھر بھی تو بدنظمی رہی، پھر پولیس پر اتنے الزامات کیوں لگا جا رہے ہیں؟‘
نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں سندھ حکومت اپنے پیروں پر کھڑی ہوکر صوبے کےمعاملات چلاتی ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کیوں ہے۔
سینیئر صوبائی وزیر نے گورنر راج کے نفاذ کی افواہوں پر بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر آپ کو صرف سندھ پر گورنر راج نافذ کرنا ہے تو لگا کر دکھائیں۔
’آپ جمہوری اداروں کی اہمیت کم کر کے گورنر راج لا رہے ہو۔ اب جب امن قائم ہو چکا ہے جس کا اعتراف سب کر رہے ہیں، وہاں گورنر راج لگاؤ گے؟‘







