پولیس کا شکار پور دھماکے کے ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے شکار پور بم دھماکے کے منصوبہ ساز سمیت چار مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں افغانستان میں سرگرم بلوچ شدت پسند گروہ جنود افدا کا بم بنانے کا ماہر بھی شامل ہے۔
پولیس نے ملزمان سے بم بنانے کے فارمولے سمیت ٹینک شکن بارودی سرنگ بھی برآمد کی ہے۔
کراچی پولیس کے انسدادِ دہشت گردی شعبے کے ایس ایس پت مظہر مشوانی کا کہنا ہے کہ محمد انور عرف مولودی عبداللہ کی گرفتاری پر سندھ حکومت نے 25 لاکھ روپے کا اعلان کر رکھا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ محمد انور کا تعلق جنود الفدا گروپ سے ہے۔
یاد رہے کہ جنود الفدا قندھار اور آس پاس کے علاقے میں اتحادی افواج کے خلاف سرگرم ہے۔
جنود الفدا نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رواں سال اگست میں ایک پیغام میں انکشاف کیا تھا کہ ان کے امیر عبدالحفیظ عرف مولوی ابو بصیر جنوبی افغانستان میں ایک لڑائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے بتایا گیا تھا بعد میں اس گروپ نے ملا عمر اور القاعدہ کے سربراہ ایمن الظوہری کی بیعت کا اعلان کیا تھا۔
مظہر مشوانی کا کہنا ہے کہ ملزم نے لشکرِ جھنگوی کے رہنما آصف چھوٹو اور حفیظ پندرانی کے ساتھ مل کر شکار پور میں امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شکار پور کی امام بارگاہ میں 30 جنوری کو ایک خودکش بم دھماکے میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس نے دو ملزمان غلام رسول اور خلیل بروہی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
پولیس کے انسدادِ دہشت گردی شعبے کے مطابق گرفتار ملزم انور، شکار پور میں گرفتار خلیل بروہی کا قریبی ساتھی ہے۔ شکار پور دھماکے کے علاوہ عباس ٹاؤن میں بم دھماکے کے لیے بھی بارود اسی نے ہی فراہم کیا تھا۔
عباس ٹاؤن کے قریب بم دھماکے میں 48 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 17 کا تعلق شیعہ برادری سے تھا۔
پولیس اس سے قبل خیرالدین، محمد اسحاق، بشیر اللہ، عرفان، انعام اللہ اور شیر عالم محسود کو اس دھماکے کے الزام میں گرفتار کر چکی ہے اور دھماکے کا سرغنہ بشیر عرف چمپو کو قرار دیا گیا تھا۔
ایس ایس پی مظہر مشوانی کے مطابق گرفتار ملزم انور نے کراچی میں واقع ایک ادارے سے مذہبی تعلیم حاصل کی ہے، آصف چھوٹو کی بلوچستان میں نقل و حرکت اس کی ذمہ داری ہے۔
’ملزم کا تعلق قلات سے ہے اور یہ کوئٹہ، خصدار اور جھل مگسی سے سندھ میں بارود کی فراہمی کرتا تھا، شکارپور میں خلیل بروہی کی گرفتاری کے وقت جو بارود بنانے کی فیکٹری ملی تھی وہاں سے بم بنانے کے فارمولا کی کتاب بھی برآمد ہوئی تھی۔ یہ کتاب محمد انور کی ہاتھ سے تحریر کردہ ہے جس کی فوٹو سٹیٹ کاپیاں ملی ہیں۔‘
دوسری جانب پولیس نے محمد انور کے علاوہ منظور احمد عرف معاویہ، عبدالحمید عرف سلطان اور عبدالطیف کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں نیشنل چوک اتحاد ٹاؤن، ایم اے جناح روڈ، کے پی ٹی فائر سروس سٹیشن سے عمل میں لائی گئیں۔







