سندھ میں پولیس اور خصوصی عدالتوں میں اضافے کی منظوری

وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں گورنر سندھ، کور کمانڈر، ڈائریکٹر جنرل رینجرز آئی جی سندھ پولیس بھی موجود تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیراعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں گورنر سندھ، کور کمانڈر، ڈائریکٹر جنرل رینجرز آئی جی سندھ پولیس بھی موجود تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ایپکس کمیٹی نے پولیس میں تفتیشی افسرن کی بھرتیوں اور انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کو سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، کور کمانڈر جنرل نوید مختار، ڈائریکٹر جنرل رینجرز جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں صوبے میں انسداد دہشت گردی کی 30 عدالتوں کے قیام، 200 پراسیکیوٹروں اور 200 تفتیشی افسران کو بھرتی کرنے کا فیصلا کیا گیا ہے۔

ادھر کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ملٹری پولیس کے اہلکاروں پر حملے میں ملوث ملزمان کی حرکت و سکنات اور لباس سے ان کی کمیونٹی اور گروہ کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈی آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد جنوبی کا کہنا ہے کہ ’شہر کی کچھ مشہور تنظیموں کے عسکری دھڑے ہیں جن میں شامل عناصر جرائم اور دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، دہشت گردوں کے آنے کے راستے کی تصدیق ہو گئی ہے اور وہ جس علاقے کی طرف فرار ہوئے ہیں اس کی بھی نشاندہی ہوگئی ہے، پولیس کو شبہ ہے کہ وہ کسی خاص علاقے میں گئے ہیں۔‘

یاد رہے کہ جائے وقوع کے قریب اس سے پہلے دو بار پولیس موبائلوں پر بھی حملے ہو چکے ہیں، جن میں چھ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی تھی جبکہ ایک موبائل پر کیمیکل بم پھینکنے سے اس کو آگ لگ گئی تھی۔ اسماعیلی بس پر حملے میں ملوث ملزم سعد عزیز نے اعتراف کیا تھا کہ یہ حملے انھوں نے کیے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ آپریشن میں تیزی آئے گی اور ملٹری پولیس اہلکاروں میں ملوث ملزمان کی گرفتاریوں میں دیر نہیں لگے گی اس واقعے کی تحقیقات فوج اور پولیس الگ الگ کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایپکس کمیٹی کے جو بھی فیصلے ہوتے ہیں اب ان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گا۔ ’تمام فریقین ایک ہی پیج پر ہیں جنرل صاحب نے بے اعتمادی کا اظہار نہیں دکھایا۔‘

دوسری جانب گذشتہ شب نادرن بائی پاس پر مائی گاڑھی کے مقام پر رینجرز سے مبینہ مقابلے میں دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق رینجرز نے جب دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں دو شدت پسند مارے گئے جن کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

تاہم رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث ملزمان کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی تھی۔

شرجیل میمن کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے نوٹیفیکیشن پر دو دسمبر 2015 کی تاریخ درج ہے
،تصویر کا کیپشنشرجیل میمن کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے نوٹیفیکیشن پر دو دسمبر 2015 کی تاریخ درج ہے

ادھر مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت سندھ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر برائے ورکس، سروسز اور آرکائیوز شرجیل انعام میمن کو عہدے سے ہٹا دیا۔