ڈاکٹر عاصم کے ریمانڈ میں توسیع، نیب کو تفتیش کی اجازت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں سات دن کی توسیع کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو تفتیش میں شامل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔
ڈاکٹر عاصم پر سیاسی جرائم پیشہ عناصر اور جہادی تنظیموں کے کارکنوں کا علاج کرنے کا الزام ہے۔
انھیں پیر کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر سندھ ہائی کورٹ اور کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے انتظامی جج نعمت اللہ پھلپوٹو کے روبرو پیش کیا گیا۔
پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عاصم حسین نے اس کمرے اور وراڈ کی نشاندہی کر دی ہے جس میں جرائم پیشہ افراد کا علاج کیا جاتا تھا اور مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ میں اضافہ کیا جائے۔
سماعت کے دوران قومی احتساب بیورو کے افسر ضمیر عباسی نے عدالت میں پیش ہو کر درخواست کی کہ اسی ریمانڈ کے دوران انھیں بھی ملزم سے تفتیش کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ بدعنوانی کے معاملات میں ان سے تفتیش کرنا چاہتے ہیں۔
اس پر عدالت نے انھیں تفتیش کا حصہ بننے کی اجازت دے دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سماعت کے موقعے پر پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان کی رینجرز کے وکیل میں گرما گرمی کے بعد انھیں اس مقدمے سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب اس مقدمے کی پیروی رینجرز کے وکیل مشتاق جہانگیری ہی کریں گے۔
ادھر ضیاالدین ہسپتال کے ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل ڈائریکٹر نے بھی عدالت میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کو ایسے تمام مریضوں کا علم تھا جنھیں علاج کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔
ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل ڈائریکٹر یوسف ستار نے پیر کو جوڈیشل میجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر اپنا بیان قلمبند کرایا۔
یوسف ستار نے اپنے بیان میں ڈاکٹر عاصم کے خلاف ایف آئی آر میں عائد کیے گئے الزامات کی تصدیق کی اور کہا کہ جن بھی مریضوں کا علاج کیا گیا وہ سب کچھ ڈاکٹر عاصم حسین کے علم میں تھا۔
یاد رہے کہ ناظم آباد تھانے میں رینجرز کے سپرنٹنڈنٹ محمد عنایت اللہ درانی کی مدعیت میں 25 نومبر کو درج کیے گئے مقدمے میں مدعی نے موقف اختیار کیا تھا کہ سندھ حکومت کی منظوری سے تشکیل شدہ جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کے روبرو ڈاکٹر عاصم حسین نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے ضیاالدین ہپستال کی نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن برانچوں میں لیاری گینگ وار، جہادی تنظیموں اور متحدہ قومی موومنٹ کے زخمی’دہشت گردوں‘ اور پولیس اور رینجرز سے مقابلوں میں زخمی ہونے والے مجرموں کو علاج کی سہولت فراہم کیں۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عاصم جانتے بوجھتے خلاف قانون ملزمان کا رعایتی علاج معالجہ کیا اور یہ وہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے کہنے پر کرتے رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما لیاری گینگ وار کے دہشت گردوں کے علاج کے لیے فون کرتے تھے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر عاصم پر الزام ہے کہ انھوں نے قانون شکنی کرتے ہوئے علاج کے بہانے سے مفرور ملزمان اور دہشت گردوں کو اپنے ہسپتال میں پناہ دی۔
رینجرز سپرنٹینڈنٹ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ملزم عاصم حسین کی ان ’مجرمانہ سرگرمیوں‘ پر ان کے اور دیگر شریک جرم ساتھیوں پر مقدمہ قائم کیا جائے اور دیگر دستاویزی شہادتیں دوران تفتیش ضروت پڑنے پر تفتیشی افسر کے حوالے کی جائیں گی۔
پولیس نے اس درخواست کو ایف آئی آر میں تبدیل کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کو 26 نومبر کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے ان کا ریمانڈ لیا تھا۔ وہ اس مقدمے سے قبل 90 روز تک رینجرز کی حراست میں تھے۔







