’آزادانہ سیاسی کیریئر تحقیقات کا محور ہے‘

ڈاکٹر عمران فاروق
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عمران فاروق کو سولہ ستمبر دو ہزار دس کو لندن کے علاقے ایجویئر میں قتل کر دیا گیا تھا

متحدہ قومی موومنٹ کے سابق کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کرنے والی لندن کی میٹروپولیٹن پولیس سروس نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ان کی جانب سے آزادانہ سیاسی کیریئر بنانے کے گرد ہی گھوم رہی ہیں اور یہی تحقیقات کی کلیدی کڑی ہے۔

عمران فاروق کی تیسری برسی کے موقع پر جاری کی گئی اپیل میں ایک مرتبہ پھر عوام سے کہا گیا ہے کہ اس قتل کے بارے میں اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ سامنے لائیں۔ پولیس نے معلومات فراہم کرنے پر بیس ہزار پاؤنڈ کا انعام بھی مقرر کیا ہے۔

سنہ 1999 میں لندن آنے والے پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو سولہ ستمبر دو ہزار دس کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں ان کی رہائش گاہ کے نزدیک چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے اگلے ماہ پولیس کو اس حملے میں استعمال ہونے والا چاقو اور اینٹ بھی ملی تھی۔

پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی انسدادِ دہشتگردی کمانڈ کے تحقیقاتی افسران اس قتل کے ذمہ داران کو تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اب تک انہوں نے چار ہزار سے زائد افراد سے بات چیت کی ہے جبکہ چھ ہزار تین سو پچاس دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

لندن پولیس کے مطابق وہ اپنی تفتیش کے دوران کئی سمتوں میں تحقیقات کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق پولیس کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے جولائی دو ہزار دس میں ایک نیا فیس بک پروفائل بنایا تھا اور سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر بہت سے نئے روابط قائم کیے تھے تاہم وہ اس قتل کے حوالے سے کھلے ذہن سے تفتیش کر رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عمران فاروق کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور لگتا ہے کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی جنہوں نے ممکنہ طور پر جان بوجھ کر یا انجانے میں اس میں معاونت کی ہو۔