اِغوا کے اشتہارات پر رینجرز نالاں، ایس پی معطل

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں پولیس کی جانب سے رینجرز کے خلاف اغوا کے اشتہارات پر رینجرز کی ناراضی کے اظہار کے بعد مبینہ طور پر اشتہار کا کورنگ لیٹر جاری کرنے والے پولیس افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات سے پولیس اور رینجرز میں غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

منگل کو کراچی کے مقامی اخبارات میں چھ ایسے شہریوں کی گمشدگی کی اطلاع شائع ہوئی تھی جو کئی روز سے لاپتہ ہیں اور یہ اشتہارات ڈی ایس پی فخر الاسلام کے نام سے شائع ہوئے تھے۔

ان اشتہارات کے مطابق ان افراد کو نامعلوم رینجرز اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان شہریوں کی گمشدگیوں کے متعلق مومن آباد تھانے میں مقدمات بھی درج ہیں۔

اشتہارات میں عوام سے کہا گیا تھا کہ اگر ان کے پاس گمشدہ شہریوں کے بارے میں معلومات ہوں تو پولیس کو آگاہ کیا جائے۔

اس پر بدھ کو رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں ان اشتہارات کو کراچی کے امن کے خلاف سازش قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق ایک حکمتِ عملی کے تحت عوام کی نظروں میں رینجرز کی اعلیٰ کارکردگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کا مقصد کراچی آپریشن کو نقصان پہنچانا ہے، ان اشتہارات کے مندرجات قطعی طور پر جھوٹ پر مبنی ہیں۔

رینجرز ترجمان کا کہنا ہے کہ رینجرز نے اپنے طور پر اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے اس معاملے میں بدھ کی شب ایس پی انویسٹی گیشن لطیف صدیقی کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے اشتہار کے لیے کورنگ لیٹر جاری کیا تھا۔

بدھ کی شب صوبائی سیکریٹری محکمہ اطلاعات نذیر جمالی نے کہا ہے کہ رینجرز سے متعلق اشتہار یکم اکتوبر کو موصول ہواا تھا جس کے ساتھ ایس پی کا کورنگ لیٹر بھی موجود تھا جس میں عدالتی حکم کا ذکر کیا گیا تھا۔

کراچی میں رینجرز کے آپریشن میں پہلا ہدف ایم کیو ایم بنی جبکہ اس کے بعد حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا گیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکراچی میں رینجرز کے آپریشن میں پہلا ہدف ایم کیو ایم بنی جبکہ اس کے بعد حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا گیا

انہوں نے واضح کیا ہے کہ محکمہ اطلاعات کسی بھی محکمے کے اشتہار میں تبدیلی نہیں کرتا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز بہت اہم خدمات انجام دے رہے ہیں، گذشتہ دو سالوں میں امن و امان کے قیام میں ان کا بنیادی کردار رہا ہے ان میں کوئی تصادم یا اختلاف نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اشتہارات صرف دونوں محکموں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔

واضح رہے کہ شہریوں کی گمشدگی اور لاشوں کی برآمدگی کے بعد ان کی شناخت کے لیے پولیس کی جانب سے اخبارات میں اشتہارات شائع ہونا معمول کی بات ہے لیکن ان میں رینجرز کا ذکر غیر معمولی ہے۔