سندھ میں رینجرز کے قیام میں ایک سال کی توسیع ہو گئی

رواں سال یہ مدت 19 جولائی کو ختم ہونی تھی لیکن اس سے قبل ہی صوبائی حکومت نے اس میں اضافہ کردیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرواں سال یہ مدت 19 جولائی کو ختم ہونی تھی لیکن اس سے قبل ہی صوبائی حکومت نے اس میں اضافہ کردیا ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ حکومت نے صوبے میں رینجرز کے قیام میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

محکمہ داخلہ کی سفارش پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔

صوبائی حکومت کی درخواست پر سندھ میں پولیس کی معاونت کے لیے بھیجی گئی بارڈر سکیورٹی فورس رینجرز کی آمد کو اس سال 20 برس مکمل ہوگئے ہیں۔

<link type="page"><caption> رینجرز کا ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150716_rangers_mqm_90_raid_rwa" platform="highweb"/></link>

ہر سال رینجرز کے قیام میں توسیع کی جاتی رہی ہے۔ رواں سال یہ مدت 19 جولائی کو ختم ہونی تھی لیکن اس سے قبل ہی صوبائی حکومت نے اس میں اضافہ کر دیا ہے۔

اس سے پہلے رینجرز اور سندھ حکومت میں بعض کارروائیوں پر اختلافات کے بعد حکومت نے رینجرز کو مشتبہ افراد کو 90 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات میں توسیع سے انکار کر دیا تھا۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت سندھ حکومت رینجرز کو اختیارات دینے سے قبل صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کی پابند ہے۔

وفاقی حکومت کے رابطے اور سابق صدر آصف علی زرداری کی مشاورت سے سندھ کی صوبائی حکومت نے 20 روز کے لیے اختیارات میں اضافہ کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے صوبے کے وزیر اعلٰی اور ارکان صوبائی اسمبلی پر زور دیا تھا کہ وہ صوبے سے رینجرز کے انخلا کے لیے بل پاس کریں۔

جمعرات کی شب کراچی میں رینجرز نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر ایم کیو ایم کے دو عہدیداران کو حراست میں لے لیا تھا۔

ترجمان رینجرزنے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے مستقبل میں مزید گرفتاریوں کا بھی عندیہ دیا۔

حال ہی میں رینجرز ترجمان کا کہنا تھا کہ ستمبر 2013 سے اب تک 5795 آپریشن کیے گئے ہیں جن میں دس ہزار سے زائد ملزمان گرفتار اور سات ہزار ہتھیار برآمد کیے گئے۔

اس کے علاوہ ان کارروائیوں کے دوران 826 دہشت گرد اور 334 ٹارگٹ کلرز کو بھی گرفتار کیا گیا۔