سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں مزید ایک ماہ کی توسیع

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں رینجرز کو مزید ایک ماہ کے لیے مشتبہ افراد کو 120 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
اس ضمن میں بدھ کی شب محکمہ داخلہ کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے گذشتہ شب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے رابطہ کیا، جس کے بعد وہ بلاول ہاؤس پہنچے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے مشاورت کی۔
اسی دوران سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی دبئی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جس کے بعد وزیر اعلیٰ کو رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی اجازت دے دی گئی۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت سندھ حکومت رینجرز کواختیارات دینے سے قبل صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنے کی پابند ہے، اور حکومت سندھ ازخود رینجرز کی مدت میں توسیع نہیں کر سکتی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
رینجرز کو انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 1997 کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 90 روز کے لیے زیر حراست رکھنے کے لیے دیے گئے اختیارات اس سے پہلے 40 روز کے لیے ملتے رہے ہیں لیکن اس بار ان میں صرف 30 روز کے لیے اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت معاملہ کو اسمبلی میں لے جانے کی خواہش مند ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے سخت موقف میں نرمی کا اظہار تو کیا ہے، لیکن اب بھی کچھ پتے اس کے ہاتھوں میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ 11 جولائی کو رینجرز کے پاس موجود پولیس اختیارت کی مدت بھی ختم ہو جائے گی اور اگر اس میں توسیع نہ کی گئی تو رینجرز کے پاس گھروں پر چھاپے کے اختیارات نہیں رہیں گے۔ اسی طرح سندھ میں رینجرز کی موجودگی کی مدت بھی 19 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وفاقی وزیر چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ اگر سندھ حکومت نے ریکیوزیشن نہیں کی تو 24 گھنٹوں میں رینجرز کو واپس بلا لیا جائے گا، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ رینجرز نے شہر میں امن بحال کیا ہے، اس لیے کراچی کی سڑکوں پر بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے۔
چوہدری نثار نے امید ظاہر کی تھی کہ سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات میں توسیع کر دے گی اور اس کے تحفظات دور کر دیے جائیں گے، یہ اختیارات صوبائی خود مختاری میں مداخلت نہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے علاوہ تحریک انصاف اور مذہبی جماعتوں نے رینجرز کے اختیارات کی حمایت کی ہے۔ گذشتہ روز ہی رینجرز نے آپریشن میں اپنی کارکردگی رپورٹ جاری کی تھی۔
رینجرز ترجمان کے مطابق ستمبر 2013 سے 5795 اب تک آپریشن کیے جن میں دس ہزار سے زائد ملزمان گرفتار اور سات ہزار ہتھیار برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ان کارروائیوں کے دوران 826 دہشت گرد اور 334 ٹارگٹ کلرز کو بھی گرفتار کیا گیا۔







