’صوبے سے رینجرز کو نکالنے کے لیے بل پاس کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے صوبے کے وزیر اعلٰی اور ارکان صوبائی اسمبلی پر زور دیا ہے کہ وہ صوبے سے رینجرز کے انخلا کے لیے بل پاس کریں۔
ایم کیو ایم کے مطابق الطاف حسین نے منگل کو نائن زیرو پرایم کیوایم کے تنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’رینجرز کا مؤقف ہے کہ اس کا آپریشن کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ گروہوں کے عسکری ونگ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے۔ رینجرز کہتی ہے کہ ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ چلاتی ہے اس لیے پارٹی کے سیکٹر اور یونٹ انچارج گرفتار کیے جا رہے ہیں۔‘
ایم کیو ایم کہتی ہے کہ اس میں کافی عرصہ سے تنظیمی کمیٹی کا کوئی وجود نہیں۔
الطاف حسین نے کہا کہ رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے سیکٹر اور یونٹ انچارجوں کی گرفتاری کے اعلان پر نہ تو وزیر اعلیٰ نے کوئی نوٹس لیا اورنہ ہی عدلیہ نے۔
انھوں نے اعلان کیا ہے کہ رینجرز کی کارروائیوں کے خلاف ایم کیو ایم وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دے گی اور ان کے بقول اگر دھرنے کے شرکاء پر گولی چلی تو نتائج کی ذمہ داری ’رینجرز اور رینجرز کے کپتان‘ پر عائد ہوگی۔
انھوں نے دھرنے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور کہا کہ رابطہ کمیٹی جلد ہی اس دھرنے کی تاریخ کا اعلان کرے گی۔
الطاف حسین نے پچھلے ہفتے کے اختتام پر کہا تھا کہ رینجرز نے سندھ کو مقبوضہ سندھ بنادیا ہے۔



