کوئٹہ میں صحافی کے اغوا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

 بلوچستان مجموعی طور پر اب تک تشدد کے واقعات میں 35سے زائد صحافی مارے گئے ہیں
،تصویر کا کیپشن بلوچستان مجموعی طور پر اب تک تشدد کے واقعات میں 35سے زائد صحافی مارے گئے ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سینیئر صحافی افضل مغل کو اغوا کے 12 گھنٹے بعد چھوڑ دیا گیا۔

افضل مغل کو پیر اور منگل کی درمیانی شب دو بجے کے قریب اغوا کیا گیا۔

صدر پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ افضل مغل کے رشتہ داروں نے اغوا سے متعلق جو درخواست دی اس کے مطابق 10 کے قریب مسلح افراد ان کے گھر آئے۔

مسلح افراد افضل مغل کو اٹھاکر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے اور اغوا کے 12 گھنٹے بعد افضل مغل کوچھوڑ دیا گیا۔

افضل مغل طویل عرصے سے روزنامہ مشرق کوئٹہ اور خبر رساں ادارے آن لائن کے لیے کام کر رہے ہیں۔

رہائی کے بعد صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی لیکن تاحال افضل مغل نے میڈیا کو یہ نہیں بتایا کہ ان کو اغوا کرنے والے کون تھے لیکن صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں کے مطابق اغوا کنندگان افضل مغل سے بعض افراد کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے رہے۔

منگل کو بلوچستان یونین آف جرنلسٹس(بی یو جے ) کے زیر اہتمام اغوا کے واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس(بی یو جے ) کے زیر اہتمام اغوا کے واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا
،تصویر کا کیپشنبلوچستان یونین آف جرنلسٹس(بی یو جے ) کے زیر اہتمام اغوا کے واقعے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

مظاہرے کے بعد شرکاء نے شہر کی مختلف سڑکوں پر ریلی نکالی۔

پاکستان کو صحافت کے لیے ایک خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے اور ملک میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات کے علاوہ متعدد صحافی مارے جا چکے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیمیں ان واقعات پر وقفے وقفے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں جبکہ صحافی احتجاج بھی ان واقعات میں ملوث افراد کو سامنے لانے کے لیے احتجاج کرتے رہتے ہیں۔

صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے صحافیوں کے لیے کام کرنا ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔

گذشتہ سال خبر رساں ادارے آن لائن کے دفتر میں نامعلوم افراد نے حملہ کیا تھا جس میں ادارے کے بیورو چیف ارشاد مستوئی سمیت تین کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

بی یو جے کے مطابق میں بلوچستان مجموعی طور پر اب تک تشدد کے واقعات میں 35 سے زائد صحافی مارے گئے ہیں جن میں سے 25 سے زیادہ کو ہدف بناکر قتل کیا گیا۔