کوئٹہ میں پولیس کا ٹی وی چینل کے کیمرہ مین پر مبینہ تشدد

کیمرہ مین رضوان احمد نے بتایا کہ پولیس کے تشدد سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیمرہ مین رضوان احمد نے بتایا کہ پولیس کے تشدد سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس کے مبینہ تشدد سے نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ایک کیمرہ مین زخمی ہوگئے ہیں۔

نیوز چینل ’اب تک‘ کے کیمرہ مین رضوان شاہد کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ شہر کے علاقے شاہ و کشا روڈ پر پیش آیا ۔

رضوان شاہد نے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ دفتر سے چھٹی کے بعد وہ اپنی دکان پر جانے کے لیے جب شاہ و کشاء روڈ پر مڑے تو وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں رکنے کا اشارہ کیا۔

انھوں بتایا کہ چونکہ دکان چوک کے ساتھ تھی اس لیے وہ دکان پر رکے جس پر ایک پولیس اہلکار وہاں پہنچ کر انھیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس اہلکار سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی بات سننے کے بجائے انھیں مارا گیا۔

رضوان شاہد نے بتایا کہ انھوں نے پولیس اہلکار کو اپنے سے دور کرنے کے دھکہ دیا تو اس پر اہلکار نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انھیں زدوکوب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موقع پر موجود تمام پولیس اہلکاروں نے ان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران ان کے دائیں پیر اور کمر پر کلاشنکوف کا بٹ بھی مارا گیا، جس کے بعد انھیں گوالمنڈی تھانہ لے جایا گیا۔

رضوان احمد نے بتایا کہ پولیس کے تشدد سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ جب اس سلسلے میں گوالمنڈی پولیس کے ایس ایچ او سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ون وے کی خلاف ورزی پر کیمرہ مین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے۔