بلوچستان میں پرتشدد واقعات میں تین اہلکار ہلاک

پولیس کے ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سنہ 2006 سے اب تک 500 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں (فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کے ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سنہ 2006 سے اب تک 500 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں (فائل فوٹو)
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات کوئٹہ اور افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں پیش آئے۔

ان میں سے دو پولیس اہلکاروں کو چمن میں نشانہ بنایا گیا۔

چمن میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق مقامی پولیس کے دو اہلکار بوغرہ روڈ پر معمول کی گشت پر تھے جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس سے دونوں پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔

اس حملے میں ایک راہگیر زخمی بھی ہوا۔

تیسرے پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ شہر میں سریاب کے علاقے میں پیش آیا۔

نیوسریاب پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہلاک ہونے والا اہلکار بلوچستان کانسٹیبلری کا ہیڈ کانسٹیبل تھا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے بلوچستان کانسٹیبلری کے ہیڈ کانسٹیبل کو غلام رسول مینگل روڈ پر نشانہ بنایا۔

چمن اور کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا محرک معلوم نہیں ہوسکا اور نہ ہی تاحال کسی نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے پولیس اہلکار بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

پولیس کے ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سنہ 2006 سے اب تک 500 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔