بلوچستان سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

آواران انتظامیہ کےمطابق یہ لاشیں ضلع کے علاقے گیشگور سے برآمد ہوئی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق انھیں گیشگور کے علاقے میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

انتظامیہ اور لیویز اہلکار جب وہاں پہنچے تو انھیں وہاں سے تین افراد کی لاشیں ملیں۔

تینوں افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق تینوں افراد کو گولیوں کو مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے دو افراد کی شناخت ہوئی ہے جن کا تعلق گیشگور ہی سے ہے۔

ان افراد کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

بلوچستان کے طول و عرض سے تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ 2008 میں شروع ہوا تھا۔

آواران کا شمار صوبے کے ان علاقوں سے ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔اس ضلع سے پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں۔

آواران کی طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں سے لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ 2013 میں شروع ہوا تھا جو وقفے وقفے سے اب تک جاری ہے۔

تاہم بلوچستان کی موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اب تشدد زدہ لاشوں کی برآمد گی میں کمی آئی ہے۔