بلوچستان میں قلات سے چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

دو افراد کی لاشیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے علاقے رحمان کہول سے ملیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندو افراد کی لاشیں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے علاقے رحمان کہول سے ملیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پسماندہ ضلعے قلات میں چار افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔

یہ تشدد زدہ لاشیں اتوار کی صبح قلات میں سوراب کے علاقے کلغلی سے برامد ہوئی ہیں۔

قلات انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق انھیں کلغلی کے پہاڑی علاقے میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ جس کے بعد لیویز فورس کے اہلکار وہاں پہنچنے۔

ذرائع نے بتایا کہ چاروں لاشیں تشدد زدہ تھیں اور انھیں سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔ ان لاشوں کو شناخت اور پوسٹ مارٹم کے لیے سوراب ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے کا کہناہے کہ چاروں افراد کوگذشتہ شب گولیاں مارنے کے بعد نامعلوم افراد نے ان کی لاشیں کلغلی کے علاقے میں پھینک دیں۔

قلات میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ان افراد کی عمریں 25 سے50 سال کے درمیان ہیں۔

ان افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی اور نہ ہی ان کی ہلاکت کے محرکات معلوم ہوسکے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں 2007 کے بعد سے تشدد زدہ لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔تاہم یہ سلسلہ اب بھی بددستور جاری ہے۔

دوسری جانب موجودہ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی میں کمی آئی ہے۔

خیال رہے کہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق گذشتہ دنوں سینٹ کی انسانی حقوق سے متعلق قائمہ کمیٹی کو صوبائی محکمۂ داخلہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ 2010 سے جون 2015 تک صوبے بھر سے 853 افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملیں ہیں۔