’پیرس کی سڑک کا نام پاکستانی صحافی کے نام پر‘

،تصویر کا ذریعہAFP
صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز نے صحافیوں کے خلاف بغیر مواخذے کے جرائم کرنے والوں کے خلاف عالمی دن کے موقعے پر پیرس کی 12 شاہراہوں کو ایسے صحافیوں کے نام منسوب کیا ہے جو قتل، تشدد یا گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں۔
جن شاہراہوں کا نام تبدیل کیا گیا ہے ان پر ان ممالک کے سفارت خانے واقع ہیں جہاں متاثرہ صحافیوں کو ناکردہ جرائم کی سزائیں دی گئیں۔
تنظیم نے پیرس میں پاکستانی سفارت خانہ جس سڑک پر واقع ہے اسے صحافی سلیم شہزاد کے نام سے موسوم کیا گیا ہے
رپورٹرز ودآؤٹ بورڈرز کے مطابق اس عمل کا مقصد ان ممالک کی ناکامی کو دنیا کے سامنے لانا ہے جنھوں نے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر کوئی کارروائی نہیں کی، اور انھیں یاددہانی کروانا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔

،تصویر کا ذریعہnon
رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز ان 12 شاہراہوں کو صحافیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو نمایاں کرنے کے لیے علامت کے طور پر استعمال کر رہی ہے کیونکہ تنظیم کے خیال میں صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والے افراد نامناسب سرکاری تحقیقات اور حکومت کی سرد مہری کی وجہ اکثر اوقات سزا سے بچ جاتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق صحافیوں کے خلاف ہونے والے 90 فیصد سے زائد جرائم کے مقدمات کبھی بھی حل نہیں ہوتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صحافیوں کی عالمی تنظیم نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کی مہم کی حمایت اس ویب سائٹ http://fightimpunity.orgwebsite کو وزٹ کریں۔
تنظیم کے مطابق اس ویب سائٹ پر آنے سے لوگوں کو لنبان کے صحافی صامر کثیر، فرانس کے گے آندرے کیفر اور میکسیکو کی ماریہ ایشٹر کے خلاف بلا سزا جرائم کی تفصیلات مل جائیں گی۔
رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کی سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوئر کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کر کے بچ جانے والوں کے مقدمات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند حکومتوں نے جان بوجھ کر ان مقدمات میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔
تنظیم کے مطابق گذشتہ دس سالوں کے دوران تقریباً 800 صحافیوں کو ان کے کام کے دوران ہلاک کیا گیا جبکہ رواں برس کے آغاز سے اب تک 48 صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔







