کوئٹہ: لاپتہ افراد کے رشتہ داروں اور صحافیوں کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہBaluchSarmachar
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ میں عید کے روز بھی اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی طرح صحافیوں نے بھی عید کے روز صوبے میں صحافیوں کے عدم تحفظ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ان رشتہ داروں نے کوئٹہ پریس کلب کے قریب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ سے احتجاج ریلی نکالی اور ریلی کے شرکا نے شہر کی مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور اس دوران اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔
اس ریلی کی قیادت وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کی اور انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جن کے رشتہ دار لاپتہ ہوں وہ عید کیسے مناسکتے ہیں۔
بلوچستان کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
مگر ماما قدیر حکومت کے اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا تھا کہ پہلے کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے دور میں ان واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
ریلی میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے جن میں سے ایک خاتون سحر بلوچ کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں لاپتہ افراد کس حال میں ہیں اور وہ کس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBaluchSarmachar
انہوں نے بتایا کہ جب ان کے پیارے اذیت میں ہوں تو وہ کیسے گھر میں بیٹھ کر عید مناسکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریلی میں شریک ایک اور خاتون مائیکان بلوچ کا بھائی لاپتہ ہے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے بھائی سردار دارو خان ابابکی سمیت تمام بلوچ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں عدالتیں ہیں اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
دوسری جانب بلوچستان میں صحافیوں کے عدم تحفظ اور ان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف صحافیوں نے بھی پہلی مرتبہ عید کے دن کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔
مظاہرے میں شریک صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی از سر نو تشکیل کر کے اس میں پی ایف یوجے کا نمائندہ شامل کیا جائے۔
صحافیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں جتنے بھی صحافیوں کوٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ان سب کے قتل کے واقعات کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن سے کرائی جائے۔







