ٹانک میں صحافی ہلاک، ہیومن رائٹس کمیشن کی مذمت

زمان محسود کو شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے

،تصویر کا ذریعہHRCP

،تصویر کا کیپشنزمان محسود کو شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں نامعلوم افراد نے مقامی صحافی زمان محسود کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔

زمان محسود ٹانک سے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینل نیو کے ساتھ ساتھ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق ایچ آر سی پی سے بھی وابستہ تھے۔

ایچ آر سی پی نے ان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹانک سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ زمان محسود منگل کو اپنے گھر سے ٹانک کی جانب موٹر سائیکل پر آ رہے تھے کہ راستے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی جس سے وہ زخمی ہو گئے۔

انھیں شدید زخمی حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مقامی صحافی فاروق محسود نے بتایا کہ ان کی میت اب ان کے آبائی علاقے لے جائی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق زمان محسود کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اور دعویٰ نامعلوم افراد پر کیا گیا ہے ۔

زمان محسود کی عمر 35 سال تک تھی اور وہ گذشتہ 13 سالوں سے صحافت سے وابستہ تھے۔

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زمان محسود کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے کمیشن کے رکن زمان محسود کے قتل پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی مقصد پسند اور متحرک نمائندے تھے۔

ایچ آر سی پی نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر اس علاقے میں ان کا کوئی اختیار ہے تو وہ اس بھیانک جرم میں ملوث افراد کو پکڑنےکی ہر ممکن کوشش کریں۔‘

زمان محسود روزنامہ امت، روزنامہ نئی بات اور ٹی وی چینل نیو کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ جنوبی وزیرستان میں انسانی حقوق کی تنظیم کے رکن کی حیثت سے بھی کام کر رہے تھے۔ زمان محسود نے پسماندگان میں بیوہ، دو بیٹیاں اور تین بیٹے چھوڑے ہیں۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے صحافیوں کے خلاف بلامواخذہ جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا تھا۔

اس عالمی دن کے موقعے پر عالمی صحافتی تنظیموں نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک قرار دیا ہے۔