الیکٹرانک میڈیا کا ضابطۂ اخلاق متنازع بن گیا

پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے ملک کے الیکٹرانک میڈیا کے لیے جاری کیے جانے والا ضابطہ اخلاق متنازع ہو گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق وہ نہیں ہے جس پر سینیٹ کمیٹی کام کر رہی ہے۔
بی بی سی اردو کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ’معلوم نہیں کہ حکومت سے کوتاہی ہوئی ہے یا جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی الیکٹرانک میڈیا کے ضابطہ اخلاق پر ایک سال سے کام کر رہی تھی اور ’وزیر اطلاعات نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اس ضابطہ اخلاق کے مسودے کا نوٹیفیکیشن کر دیں گے اور اب وہ صرف وزیر اعظم کے نوٹس میں یہ مسودہ لانا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 19 اگست کو جاری کیا جانے والا ضابطہ اخلاق مختلف ہے۔
’ایک بڑی بات یہ ہے کہ اس ضابطہ اخلاق کی تیاری میں پیمرا کو شامل ہی نہیں کیا گیا جو الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرتا ہے۔‘
فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ ’اس ضابطہ اخلاق میں مواد کی مانیٹرنگ اور ضابطہ اخلاق کا نفاذ ٹی وی چینلوں کے مالکان کی ذمہ داری ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق چینل ہی کے لوگوں نے تیار کیا ہے۔‘
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ ضابطہ اخلاق اس کور کمیٹی نے بنایا ہے جس کو یہ ٹاسک وزیر اعظم نواز شریف نے بہت عرصے پہلے دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے بنایا گیا مسودہ ابھی قانون سازی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ’اگر کوئی قانون پارلیمان میں زیر بحث ہو تو عدالتوں نے ہمیشہ پارلیمان کے اس دائرہ اختیار کا احترام کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے استحقاق اور عدالت عظمیٰ کے سامنے درست بیان نہ دینے کا بھی ہے۔ اور اس معاملے کو ہم سینیٹ کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔‘
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس ضابطہ اخلاق پر صحافی تنظیموں اور ریگولیٹری اتھارٹی کو بہت سے تحفظات ہیں۔







