’پاکستانی میڈیا خود ساختہ سینسرشپ کا شکار ہے‘

- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ جب صحافتی ادارہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہو تو کوئی اور جنگ کیسے لڑی جا سکتی ہے؟
’جب اپنے حقوق پامال ہو رہے ہوں تو ملک میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف کیسے آواز اٹھائی جا سکتی ہے؟‘
حامد میر سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی تو ان کے چہرے پر بے بسی عیاں تھی۔
جمعے کو حقوق انسانی کمیشن پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں 14 صحافی مارے گئے۔
گذشتہ برس کراچی میں حامد پر ہونے والے حملے کو آج ایک برس ہونے کو ہے مگر اس کے اثرات ابھی باقی ہیں۔ وہ اپنی بات کرنے میں محتاط زبان استعمال کر رہے تھے۔ انھوں نے حملہ آوروں کی جانب اشارہ تو کیا مگر کسی کا نام نہیں لیا۔
حامد میر کہتے ہیں: ’ان پر ہونے والے حملے نے نہ صرف جسمانی اور ذہنی طور پر ان کی زندگی بدل دی بلکہ ان کی صحافت کے دائرے کار کو بھی محدود کر دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں نے انصاف مانگنا چھوڑ دیا ہے۔
وہ مایوس تھے کہ وہ تین مرتبہ حملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، انھیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا مگر اب تک کمیشن کسی نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حامد میر کا شمار پاکستان کے اہم صحافیوں میں ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے ادارے کی بقا کی جنگ کی وجہ سے میں اور میرا ادارہ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنے میں وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔‘
انھوں نے کہا: ’پاکستانی میڈیا خود ساختہ یا سیلف سینسرشپ کا شکار ہے۔ اس نے اپنی کریڈیبلٹی کھو دی ہے کیونکہ یہی میڈیا دھرنوں کے دوران کہہ رہا تھا کہ آج وزیر اعظم پاکستان نواز شریف استعفیٰ دے رہے ہیں، اسلمبلیاں تحلیل ہونے والی ہیں، مگر ہوا کچھ بھی نہیں۔‘
بعض مبصرین کے خیال میں پاکستان کے مقامی میڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کی جنگ دم توڑتی جا رہی ہے۔
میڈیا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار عدنان رحمت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’وکلا کی قومی موومنٹ اور فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں لگنے والی ایمرجنسی کے دوران الیکٹرونک میڈیا کا کردار قابل تعریف تھا اور عوام کو محسوس ہوا کہ اب میڈیا ایک آزاد قوت بن کر ابھرا ہے مگر وہ حالات زیادہ تر نہیں رہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے مطابق اشاعت جاری رکھنے کےلیے میڈیا سیلف سینسرشپ کی غیر اعلانیہ پالسی پر عمل پیرا ہے۔
مبصرین کے خیال میں ماضی میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملے پر بلند ہونے والی آوازیں کافی حد تک دبتی جا رہی ہیں۔
پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی جوابدہی کا مطالبہ کرنے یا انھیں مزید اختیار دینے کی مخالفت کرنےوالے جیسے کسی لمبی خاموشی میں دھکیلے جا چکے ہوں۔
ماما قدیر کی فریاد عوام تک پہنچانے والی آنکھوں اور کانوں پر جیسے تالے لگا دیے گیے ہوں۔
سابق فوجی آمر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے یا فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کی تعداد مقامی میڈیا میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
پاکستان کا الیکٹرونک میڈیا اتنے برسوں کی جدوجہد کے باوجود اس موڈ پر کھڑا ہے جہاں خوف اور دباؤ کے ہاتھوں صحافت مجبور ہے۔
حملے میں بچ جانے والے صحافی حامد کا کہنا ہے: ’بعض ریاستی حلقے انھیں کام کرنے سے روک رہے ہیں، ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ دیں مگر میری پوری کوشش ہے کہ میں پاکستان چھوڑ کر نہ جاؤں لیکن حالات ایسے ہی رہے تو شاہد مجھے ملک چھوڑنا پڑے۔‘
ایک بااثر سمجھے جانے والے صحافتی ادارے سے منسلک سینیئر صحافی حامد میر بعض مسائل پر چپ رہنے پر مجبور ہیں تو محدود وسائل پر چلنے والے کسی صحافتی ادارے میں کام کرنے والے ایک پاکستانی صحافی کی مشکلات کیا ہوں گی؟







