چترال سے پرستان

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شرجیل بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے۔ کراچی سے وادی کیلاش تک کا یہ سفر ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔ یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے 14ویں قسط۔۔
چترال شہر سے ہم نے اپنی میزبان کو لینا تھا جس کے بابا رمبور گاؤں میں ایک چھوٹا سا گیسٹ ہاؤس چلاتے ہیں۔
رات کے آٹھ بجے تھے اور شہر تقریباً سو چکا تھا۔اندھیرے میں ہم اتر کر ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے نکوٹین لیول پورا کر رہے تھے کہ ایک ہنستی مسکراتی ہوئی لڑکی شاکرہ ہم سے آ کر ملی۔ اور رمبور جانے کے لیے ہماری جیپ میں سوار ہوگئی۔اس کے ملنے اور پر اعتماد اندازِ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ کیلاش لوگ خوش مزاج اور کھلے ذہن کے لوگ ہیں۔وہ اپنی نئی نسل پر اعتبار اور اعتماد رکھتے ہیں۔
یہ سماج خیبر پختون خواہ کے اس قبائلی سماج سے بالکل مختلف تھا۔ جہاں اس عمر کی لڑکی کا رات میں تو کیا دن میں بھی کسی نا محرم شخص سے بات کرنا اخلاقی جرم سمجھا جاتا۔ یوں لگا جیسے کوئی سینٹرل ایشین لڑکی ہمارے ساتھ سفر کر رہی ہے۔ ہمارے دلوں میں ان کیلاش لوگوں سے ملنے کا اشتیاق شدت پکڑتا گیا۔مگر پتہ نہیں ہمارے ڈرائیور حبیب الرحمان کو کیا ہوا کہ وہ اب رمبور جانے سے کترانے لگا۔صائب ادر کے رستا ٹیک نئیں اے۔ ابی ام کو فون پر بتایا امارہ ساتھی نے۔ ام ادر رات میں کبھی نہیں گیا اے۔ ابی کیا کرتا اے ادر جا کر؟
وہ رمبور نہ جانےاور چترال میں ہی رات رکنے کے بہانے بناتا رہا۔ مگر ہماری خاموشی اس کے تمام بہانوں کو رد کرتی رہی۔بلآخر وہ راستے میں آنے والے تمام ممکنہ حادثات کی ذمہ داری ہم پر ڈال کر خراب موڈ سے روانہ ہو گیا۔
چترال سے واپسی پر پکی سڑک سے دائیں ہاتھ کو مڑ کر ہماری جیپ پریوں کی اس بستی کی طرف مڑی جو کچے راستوں، فوجی چیک پوسٹوں، دریائی نالوں اور اونچے پہاڑوں کے اندر دور کہیں صدیوں سے چُھپی ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ جیپ پہاڑوں میں داخل ہونے لگی اور ہم آبادی سے دور بہت دور ہوتے چلےگئے۔گہری تاریکی میں اونچے پہاڑوں کے پتھریلے ٹریک پر اچانک کہیں سے ایک موڑ آ جاتا۔گاڑی مڑتے ہوئے اس کھائی کے کنارے جب ریورس ہوتی تو ہماری سانسیں اوپر کی اوپر نیچے کی نیچے رک جاتیں۔نیچے سینکڑوں فٹ گہری کھائیوں پر نظر پڑتی تو ہم گھبرا کر جیپ کی ہیڈ لائٹس میں یوں سامنے دیکھنے لگتے۔ جیسے ہم نے کچھ نہیں دیکھا۔اور وہ راستہ آگے پھر کہیں دائیں بائیں مُڑ رہا ہوتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
یہ کوئی رستہ اے؟ ڈرائیور کے منہ سے وہ جملہ ایک گالی کی طرح نکلتا۔ کیا کرے گا ادر جا کر؟ وہ ہر پانچ منٹ بعد اسی طرح کی کوئی گالی دیتا اور اپنے غصے کو کھڑکی سے باھر تھوک دیتا۔ کیونکہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ اب پیچھے واپسی ممکن نہیں ہے۔اس کی چھ ہزار سی سی جیپ کسی سرکس ہال میں تنے ہوئے ہوئےِ رسے پر ہتھنی کی چال چل رہی تھی۔بلال اور رضوان دونوں اب بھی جیپ کی چھت پر چپکے ہوئے تھے اور ہم سب اندر دائیں بائیں جھول رہے تھے۔
ہم نے اپنی خوفزدہ آوازوں کو سینوں میں جکڑ رکھا تھا۔ کہ ننھی فاطمہ اور صلاح الدین کیا سوچیں گے۔ کشور کا سانولا چہرہ پہلی بار سفید پڑتے دیکھا ہم نے۔ میرے ساتھ بیٹھا تھری براہمن دل مضبوط کیے بیٹھا تھا۔مگر میری سوالیہ مسکراہٹ پر وہ نفی میں سر ہلا کر سامنے دیکھنے لگتا۔مجھے لگا کہ کوہ کاف تک پہنچنے کی جتنی کہانیاں ہم نے پڑھی تھیں وہ سب سچی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک چکنے پتھروں والی، تیز بہتی ہوئی ندی سے جب ڈرائیور نے جیپ باھر نکال لی تو ہم بچوں کی طرح بے ساختہ تالیں بجانے لگے۔آپ نے پل صراط کا صرف نام سنا ہوگا۔ ہم اس پر سے گزر رہے تھے۔ جب بھی کوئی آبادی اس بیچ میں آتی ہم خوش ہو جاتے کہ رمبور آگیا۔اور بالآخر رات کے 12 بجے ایک پولیس چوکی پر پہنچ کر پتہ چلا کہ ہم رمبور پہنچ گئے ہیں۔جیپ سامنے میدان میں چھوڑ کر تھکن سے چُور فوٹوگرافر لوگ گاؤں کی جانب کچے راستے پر روانہ ہوگئے۔
آسمان کے سیاہ آنچل پر لاکھوں ستارے بکھرے پڑے تھے۔ان میں چمک تو تھی پر صحرا کے ستاروں کی جگمگ جگمگ نہیں تھی۔رات کوگاؤں کے کتوں کا خوف بھی لاحق تھا مگر ان کی کوئی آواز تک سنائی نہیں دی۔اور جھینگر، بہت غور کیا تو جیسے وہ بھی نیند میں ہوں۔یوں لگا جسیے پوری وادی پر خاموشی کا کمبل پڑا ہوا ہو۔چلتے چلتے ہم وادی کے وسط میں بنے لکڑی کے ہٹس تک پہنچ گئے۔جس کے سامنے گھاس کا لان ۔اس کے آگے ایک اور لکڑی ہٹ اور اس کے پیچھے ایک شور مچاتا ہوا دریائی نالہ۔

،تصویر کا ذریعہ
ہم سب خاموش خاموش، بکھرے بکھرے سے اپنے آپ کو جمع کرتے ہوئے کاٹیج کے اندر لکڑی کے بنے ہوئے بینچوں پر بیٹھے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کرنا ہے۔ اتنی دیر میں ایک مقامی کیلاش آیا اس کے ہاتھوں میں چائے کی چینک تھی۔ ہلکی پتی والی کچی چائے پیتے ہوئے یوں لگا جیسے وہ چائے کی یخنی ہو۔ مگر اس وقت یہ بھی غنیمت لگ رہی تھی۔
فوٹوگرافرز اس اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہاڑوں کے اوپر گزرتی کہکشاؤں کا سفر دیکھنے نکل گئے۔ جب تک سمیع، راجہ، کشوراور عادل نے لان اور کمرے میں فولڈنگ ٹینٹس کھول کر لگا دیے۔اُس پیراشوٹ کے خیمے کے اندر اور باہر رات کافی سرد تھی۔اپنے سلیپنگ بیگ میں رینگ کر نیند کی کٹیا کا دروازہ بند کرتے ہوئے آخری آواز اس اذان کی سنی جو کسی نئے موذن کی لگتی تھی۔ بالکل سیدھی سیدھی اور سٹریٹ فارورڈ، اس میں کوئی ترنم یا لے کاری نہیں تھی۔
<link type="page"><caption> کلاچ سے کیلاش تک : پہلی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150809_travelogue_kalach_to_kalash_1st_zz" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> گنڈا سنگھ والے کا دنگل: دوسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150816_travelouge_kulach_to_kailash_ep2_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> قصہ قصور کا: تیسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150823_travelogue_kulach_to_kalash_3_rh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150830_lahore_sharjil_travelogue_rh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150906_sharjil_travellogue_episode5_rh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150913_kolachi_to_kailash_khewra_episode_6_rwa" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کٹاس کا طلسم کدہ: ساتویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150920_kolachi_to_kailash_episode_7_katas_raj_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایبٹ آباد کا جدون باغ: آٹھویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150927_travel_kolachi_to_kailash_abbottabad_sh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ایبٹ آباد سے دیر بالا: نویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151004_sharjil_travelouge_episode_9_rwa" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’میربانی، ڈاکٹر ساب میربانی‘: دسویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151011_sharjil_travelouge_episode_10_zh" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> وہ سانولا سا شرمیلا فوجی: گیارھویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151018_kalachi_to_kailash_episode_11_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کھاؤ پیو، شکوہ مت کرو: بارہویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151025_kolachi_to_kailash_episode_12_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> میں اور میرا سلطان: 13ویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/11/151101_kolachi_to_kailash_ep13_zs.shtml" platform="highweb"/></link>







