وہ سانولا سا فوجی ایک دم شرمیلا سا نکلا
- مصنف, شرجیل بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے 11ویں قسط

لواری پوست کی طرف جانے والی گاڑیوں کا راستہ ایک بار پھر کھل چکا تھا۔ آگے سو گز پر ایک ٹرک ہزاروں فٹ بلند شکستہ سڑک پر بہتے ہوئے نالے میں پھنسا ہوا ترچھا کھڑا تھا۔ہماری جیپ اس سے اپنا دامن بچاتی ہوئی یوں گزری جیسے کوئی سڑک پر پڑے ہوئے فقیر کے سوالیہ ہاتھ سے بچ کر گزرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

مگر اب پھر کیوں رک گیا یہ کم بخت رولر کوسٹر؟ اوہ اچھا آرمی کی چوکی۔یار کیا مسئلہ ہے ان کو؟ کیوں اتنی چیکنگ کر رہے ہیں یہ۔۔جیپ میں سوالیہ آوازیں اُٹھیں اور پھر قریب آتے ہوئے فوجی جوان کی کڑک چال دیکھ کر اسی طرح بیٹھتی گئیں۔
جی جناب کہاں سے آ رہے ہیں آپ؟ کراچی سے۔ عرفان نے جواب دیا۔
سب کے سب کراچی سے؟ کارڈز چیک کرائیں۔ عرفان نے سب کے شناختی کارڈز نکال کر جوان کے حوالے کر دیے۔ وہ ایک ایک کارڈ کو دیکھتا اور پھر سواریوں کو۔
اس کے پیچھے پہاڑ کے ساتھ، مجھے ایک دبلا پتلا سانولی رنگت کا درمیانے قد کا جوان خاموش کھڑا نظر آیا۔جانے کیوں مجھے اس سے شدت سے انسیت محسوس ہوئی۔ میں نے کارڈز چیک کرتے ہوئے جوان سے کہا کہ زرا اس کو بلا دیں۔ ہیلو۔۔ ادھر آنا۔ جوان نے شوخ لہجے میں اسے آواز دے کر بلایا۔

کیا بات ہے؟ دور سے ہے اس نے خشک لہجے میں پوچھا۔ میں نے کھڑکی سے منہ باہر نکالا اور اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ اس نے ایک لمحے کو میری طرف دیکھا اور پھر اٹھے ہوئے سینے اور ڈھیلے قدموں سے بڑھا۔ بالکل گاؤں والی چال تھی اس کی۔ دھیمی اور جوانی کے نشے والی۔
جی جناب۔۔۔؟ اس کے اکھڑے ہوئے لہجے میں پنجابی کی ہلکی سی آمیزش ضرور تھی مگر اس کی زبان کچھ اور تھی۔اپنی رنگت سے سانولا لگتا تھا۔ مگر چہرے کے سخت اور تیکھے نقوش اسے بھورل یا نوُرل بتا رہے تھے۔ کیا حال ہے؟ میں نے پوچھا۔ اللہ کا شکر ہے جی۔ اس کا روکھا پن ابھی تک قائم تھا۔
کہاں کے رہنے والے ہیں آپ؟ میں اس کا اصل لہجہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اسی پاکستان کے۔ وہ بولا۔ علاقہ کونسا ہے آپ کا؟ میں نے پھر پوچھا۔ اس نے میری طرف اب غور سے دیکھا۔

گھر میں کونسی زبان بولتے ہیں آپ؟ میں نے مزید پوچھا۔
ہم بہت دور کے رہنے والے ہیں جناب۔ بلوچی بھی بولتے ہیں، پشتو بھی بولتے ہیں اور سرائیکی بھی۔ موسٰی خیل کا ہوں میں۔
اور میں مچھ کا۔ میں نے مسکرا کر اپنا ہاتھ مصافحے کے لیے کھڑکی سے باہر نکالا۔ اس کے ہاتھ کھردرے اور سرد تھے۔ مگر اس کی گرفت میں بہت اپنائیت آ چکی تھی۔ جیسے کسی اپنے کے ہاتھوں کی۔ جوان آ کتھاں ودیں؟ ( جوان کہاں گھوم رہے ہو) میں نے سرائیکی میں پوچھا۔
وہ ایک دم شرمیلا سا نکلا۔ مسکرا کر بولا۔ سئیں ڈیوٹی تاں ڈیوٹی اے۔ بس کھڑوں تھئے۔ (ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے بس کھڑے ہیں) اس نے میرا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ جیسے گاؤں والے ہاتھ ملانے کے بعد دیر تک تھامے رکھتے ہیں۔ ابھی بات شروع ہی ہوئی تھی کہ ساتھ والے جوان نے ہمیں شناختی کارڈز واپس کیے اور گاڑی کو روانہ ہونے کا اشارہ کیا۔
او آؤ نا۔ چائے تاں پیؤ۔ اس نے اچانک روانہ ہوتی گاڑی کے ساتھ چلتے ہوئے بے ساختہ کہا۔ واپسی تے پیسوں( واپسی پر پیئں گے) میں نے اس کا دل اور امید دونوں رکھتے ہوئے کہا۔
واپسی دا کیا پتہ ۔ کتھاں ہو سوں۔ ( واپسی کا کیا پتہ کہاں ہوں گے)۔ اس کے لہجے میں مایوسی تھی۔ وہ مانوس اجنبی ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہتا رہا۔ اور پھر سر نیچے جھٹک کر پہاڑ کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ میں بھی اسے گردن گھما کر دیکھتا رہا۔دیکھتا رہا۔ اور اچانک موڑ موڑتے ہی وہ منظر یکلخت غائب ہو گیا۔

جیپ لواری ٹاپ پر پہنچی تو راجہ نے چلتی گاڑی سے ہاتھ باہر نکالا اور پہاڑ پر جمی ہوئی برف کھرچ کر مٹھی میں بھر لی۔ اور اس کا گولہ بنا کر میرے سامنے کر دیا۔ ریت کے سمندر سے آیا ہوا براہمن بچہ خوشی سے چمک رہا تھا۔
میں نے بیگ سے کولڈ ڈرنک نکال کر اس برف کے گولے پر ڈالی اور برف اس کے ہونٹوں پر رکھ دی۔ وہ منہ اوپر کر کے جلدی سے گولہ گنڈا چوسنے لگا۔اور بس کے باقی لوگ سکول کے بچوں کی طرح اسے دیکھنے لگے کہ ہماری باری آتے آتے کہیں وہ گولہ ختم نہ ہو جائے۔پھر راجہ نے وہ گولہ میرے ہونٹوں پہ لگا دیا۔
اف۔۔ کتنے سالوں بعد اس سرد برف نے ہونٹوں کے کناروں پر میٹھی سی جلن پیدا کر دی تھی۔
اور پھر وہ گولہ کوک پلاتا ہوا مجھ سے سمیع۔ نوشاد۔ کشور۔ صلو میاں۔ فاطمہ۔ فیضان۔ راول اور نخبت سے ہوتا ہوا فرنٹ سیٹ پر عرفان تک پہنچ گیا۔ جانے کتنے سالوں سے یہ برف ہمارا من بہلانے کی منتظر تھی۔مگر جاتے جاتے ہماری انگلیوں پر کوک کی چپِچِپ چھوڑ گئی۔







