قِصہ قصور کا

    • مصنف, شرجیل بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔پیش ہے تیسری قسط

جگمگ جگمگ کرتے کھوکھوں اور پینا فلیکس کے بیچوں بیچ کہیں کہیں لال اینٹوں سے بنی کوئی محراب والی بوڑھی دکان نظر آ جاتی تھی
،تصویر کا کیپشنجگمگ جگمگ کرتے کھوکھوں اور پینا فلیکس کے بیچوں بیچ کہیں کہیں لال اینٹوں سے بنی کوئی محراب والی بوڑھی دکان نظر آ جاتی تھی

مغرب ہونے کو تھی جب گنڈا سنگھ والا سے واپس لاہور جاتے ہوئےکوسٹر بائیں ہاتھ مڑی اور قصور شہر میں داخل ہوگئی۔ کوسٹر جیسے جیسے شہر میں داخل ہوتی جاتی تھی راستہ تنگ ہوتا جاتا تھا۔ سڑک کے دونوں اطراف نئی دکانوں اور موبائل کمپنیوں کے جگمگ جگمگ کرتے کھوکھوں اور پینا فلیکس کے بیچوں بیچ کہیں کہیں لال اینٹوں سے بنی کوئی محراب والی بوڑھی دکان نظر آ جاتی تھی۔ایک تانگے کے پیچھے بیٹھے ہوئےبوڑھے نے ایک اشتہاری پوسٹر تھاما ہوا ہے اور چکن تکے اور چرغے کے رعائتی نرخوں کا اعلان کر رہا ہے۔

ہماراگروپ بازار میں پیدل مزارکی جانب روانہ ہے۔ سڑک پر بہت رش ہے دونوں طرف سے لوگ آ جا رہے ہیں۔ مگر مرد اور عورتیں دونوں اس بھیڑ میں اطِمینان سے چل رہے ہیں۔ ان کی چال میں گاؤں والی سُست روی ہے۔ بیچ میں رکی ہوئی گدھا گاڑیوں کو سامنے سے آتے ہوئے موٹر سائیکل سوار پِیں پِیں کرتے ہوئے آرام سے کٹ مار کرگزرتے جا رہے ہیں۔ دکانوں کے آگے مُوڑھوں پر بیٹھے حُقہ پیتے بزرگ ہمیں اپنائیت والی نظروں سے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔

گلے میں سکارف اور جینز پہنے دُور جاتی ہماری ساتھی خواتین کو رک کر دیکھا اور ایک عورت نے ساتھ والی عورتوں سے گزرتے ہوئے کہا ’لگدا اے باہروں آئے نیں۔۔۔‘ وہ سب رک کر انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ خواتین میں اکثر نے کالے برقعے ضرور اوڑھ رکھے تھے مگر ان کے چہروں پر مڈل کلاس والا نقاب نہیں تھا۔

تنگ سڑک کے دونوں جانب جگہ جگہ مٹھائی اور فالودے والے ہیں میاں جی کا قصوری فالودہ، محمد حسین کا اصلی قصوری فالودہ، حاجی انور کا قصوری فالودہ اور قصوری اندرسے۔

آؤ جی آؤ جی۔۔ اندر آ جاؤ۔۔ آؤ بیٹھو نا جی۔

پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی اشتھار بازی کا یہ برسوں پرانا طریقہ نظر آجاتا ہے
،تصویر کا کیپشنپنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی اشتھار بازی کا یہ برسوں پرانا طریقہ نظر آجاتا ہے

دکان پر کھڑے ہوئے ویٹر نے ہمیں اندر کھینچ ہی لیا۔ اس کے انداز خوشامدانہ بالکل نہیں تھا بلکہ ذرا سا تحکمانہ تھا۔ کشور اور بچوں نے تو کوسٹر میں ہی فالودہ فالودہ کی رٹ لگا رکھی تھی۔ دو منٹ میں سب کے سامنے ڈونگے نما پیالوں میں باریک پسی ہوئی برف پر سفید فالودے کی سوّویاں اور اس پر گاڑھے بھورے رنگ کا کھویا رکھا ہوا تھا۔ اتنے بڑے پیالے کو دیکھ کر کراچی والوں کی آدھی اشتہا وہیں دم توڑ گئی۔اور جیسے ہی پہلا چمچ منہ میں گیا سب کے چہرے سوالیہ نشان بننے لگے۔ یہ کیا ہے؟ ارے اس میں آئیس کریم تو ہے ہی نہیں۔ اور یہ برف بھی کُوٹ کے ڈالی ہوئی ہے۔ کشور نے برا سا منہ بناتے ہوئے احتجاج کیا۔

نوشاد نے ٹشو پیپر سے ٹھوڑی صاف کرتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا ’ہاں اس کا کھویا ذرا نمکین ہے نا‘۔ یہ شوہر لوگ ایسے موقعوں پر اکثر بے نیاز سے ہو جاتے ہیں۔

’ہائے میں تو کراچی والا فالودہ سمجھ کر آئی تھی‘۔ احتجاج کرتی ہوئی کشور اپنی چار سالہ فاطمہ جیسی نظر آ رہی تھی۔ بھئی باقی فالودے واپس کردو۔۔!! ہماری گردنیں کاؤنٹر کی طرف مُڑیں مگر اس پہلوان نما ویٹر کی نظروں میں اب ایک خاموش تنبیہ تھی۔ جسے دیکھتے ہی ہم سب نے اپنے منہ پیالوں میں ڈال دیے۔

درگاہ کے صحن میں اندھیرا ہے۔ مرکزی دروازے کے اندر قصوری میتھی اور قصوری مہندی کی خوشبو ان ماؤں کو روک رہی ہے جن کی لڑکیوں کے اچھے رشتے ابھی تک دبئی اور عرب ممالک میں مزدوری کر رہے ہیں۔ وہ مّنت کی مہندی خرید رہی ہیں۔ صحن کے شروع میں ہی ایک بوڑھا فقیر اس صُوفی کا کلام پڑھ رہا ہے جسے دنیا بُلھے شاہ کے نام سے جانتی ہے اور وہ کہتا ہے بُلھا کی جاناں میں کون۔ اب پتہ نہیں یہ بات بلھُا دُنیا سے کہہ رہا ہے ۔۔ یا کوئی بُلھے سے۔

صحن کے شروع میں ہی ایک بوڑھا فقیر اس صُوفی کا کلام پڑھ رہا ہے جسے دنیا بُلھے شاھ کے نام سے جانتی ہے اور وہ کہتا ہے بُلھا کی جاناں میں کون۔
،تصویر کا کیپشنصحن کے شروع میں ہی ایک بوڑھا فقیر اس صُوفی کا کلام پڑھ رہا ہے جسے دنیا بُلھے شاھ کے نام سے جانتی ہے اور وہ کہتا ہے بُلھا کی جاناں میں کون۔

درگاہ کے صحن میں ٹولیوں میں بیٹھے ہوئے لوگ فقیروں اور قوالوں کو سن رہے ہیں۔ ان کے انداز مودبانہ اور سر جُھکے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی کوئی ایک آدھ جذب میں آ کر اٹھتا ہے اوردو چار پھیرے کھا کر پھر سر جھکا کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ ایک لال پگڑی والا سکھ کافی سنتے ہوئے جانے کہاں کھو گیا ہے۔ اس نے شاید بلھے کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ فوٹوگرافرز دوست اس اندھیرے میں اپنے کیمروں کی آنکھیں پھاڑے ان کی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔ یہ درگاہ ان روایتی درگاہوں سے ذرا مختلف ہے۔ جن کے بڑے سے احاطے کے سائیڈ پر نسبتاً ایک چھوٹی مسجد ہوتی ہے۔ اس درگاہ سے متصل مسجد کا صحن اور عمارت درگاہ کی چھوٹی سی عمارت پرحاوی تھے۔

سائیں کیا فرق ہے سندھ کی درگاہ اور پنجاب کی درگاہ میں؟

وہ ایک لال پگڑی والا سکھ کافی سنتے ہوئے جانے کہاں کھو گیا ہے۔ شاید اس نے بُلھے کا ہاتھ تھام لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAdil Jadoon

،تصویر کا کیپشنوہ ایک لال پگڑی والا سکھ کافی سنتے ہوئے جانے کہاں کھو گیا ہے۔ شاید اس نے بُلھے کا ہاتھ تھام لیا ہے۔

سندھ کے ایک گاؤں کی ایک چھوٹی سی درگاہ میں مجاور کو چرس کی سُلفی پیتے دیکھ کر، ایک سندھی پروفیسر نے مسکرا کر مجھے جواب دیا ۔۔۔ بس سائیں اب ایک فرق ہے۔ سندھ کی درگاہ موالی کے ہاتھ میں ہے اور پنجاب کی درگاہ مولوی کے ہاتھ میں۔

رات کے ایک بج رہے ہیں۔ فوٹو گرافرز اپنے اپنے بستروں میں پڑے اپنے کیمروں میں دن بھر کے منظر دیکھ رہے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے شکاری اپنے اپنے تھیلے سے شکار کی ہوئی مرغابی، تیتر، بطخ اور خرگوش نکال نکال کر خوش ہو رہے ہوں۔