گنڈا سنگھ والے کا دنگل

سٹیڈیم نما مختصر سا میدان دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کے مسلمان حصے کا نام گنڈا سنگھ والا ہے اور ہندو حصے کا نام فیروز پور
،تصویر کا کیپشنسٹیڈیم نما مختصر سا میدان دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کے مسلمان حصے کا نام گنڈا سنگھ والا ہے اور ہندو حصے کا نام فیروز پور
    • مصنف, شرجیل بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔پیش ہے دوسری قسط

صبح نو بجے آنکھ کھلی تو گیسٹ ہاؤس کے بڑے سے کمرے میں آٹھ دس بھاری بھرکم جسم بستروں گدوں اور صوفوں پر بکھرے پڑے تھے۔ میز پر کیمرے، لینزز، لیپ ٹاپس، بٹوے، پانی کی خالی بوتلیں اور ایش ٹرے سے باہر گرے ہوئے سگریٹ کے ٹوٹے۔

اُف ۔۔۔۔۔ ابھی صرف نو بجے ہیں اور چھت پر ٹینکی کا پانی اُبل چکا ہے۔ نہاتے ہوئے اندازہ ہو گیا کہ لاہور کی چنبیلی رات کا بدلہ، لاہور کا جگّا دن لے کے رہے گا۔

کراچی کے مفرور ، بے فکر ہو کر جاگ رہے ہیں مگر یہ لاہوری ان سے بھی زیادہ بے فکرے ہیں۔ جو چائے اور ناشتہ صبح نو بجے ملنا تھا بارہ بجے کے قریب میسر ہوا۔ معلوم نہیں ان کا یہ مزاج سرکاری ہے یا لاہوری۔ پر لگتا یوں ہے جیسے راوی ان کے رویوں میں چین کی بنسی بجاتے بجاتے سوگیا ہے۔

گیسٹ ہاؤس سے کوسٹر میں بیٹھتے بیٹھتے سورج نے سب کا حال پوچھ لیا۔

میں لاہور آخری بار سن 1986 میں آیا تھا۔ سلطان صاحب نے مجھ پر جھک کر کھڑکی سے باھر جھانکتے ہوئے سرگوشی کی۔ وہ بات کرتے ہوئے رازدارانہ سے ہو جاتے ہیں۔ آج یوں دکھائی دیتا ہے گویا وہ لاہور کوئی خوبصورت گاؤں تھا۔ بہاری بابو کی آنکھیں جیسے کچھ ڈھونڈ رہی تھیں مگر ان کی حیرت بجا تھی۔ شاید انسان آخری منظر کو ویسا ہی دیکھنا چاہتا ہے جیسا اس نے چھوڑا تھا۔

سرحد کے گیٹ سےکافی پہلے سڑک کے بیچوں بیچ ایک یادداشتی تصویر موجود تھی
،تصویر کا کیپشنسرحد کے گیٹ سےکافی پہلے سڑک کے بیچوں بیچ ایک یادداشتی تصویر موجود تھی

ابھی قصور گزرا ہی تھا کہ نہر کے کنارے فوجی جوانوں نے بس کو روک کر مسکراتے ہوئے سب کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ سب اچھے بچوں کی طرح لائن بنا کر نیچے اتُر آئے۔ جس جس کی جامہ تلاشی ہوتی جاتی وہ اپنی اپنی سگریٹ جلا کر باقیوں سے لاتعلق سا ہوتا جاتا۔ گویا ہر سواری اپنے سامان کی ذمہ دار خود ہے۔ لڑکیاں اس دوران سیلفی سیلفی کھیلنے لگتیں۔ تلاشی ختم ہوئی سب آدھے آدھے سگریٹ پھینک کر جلدی جلدی بس میں سوار ہوئے اور بس روانہ۔

پانچ منٹ ہی گزرے ہونگے کہ پھر فوجی چوکی، پھر لائن، پھر تلاشی، پھر سگریٹ، پھر سیلفی اور پھر روانگی۔ تیسری چوکی پر سب کچھ دہرانے کے بعد ہم بس کو چھوڑ کر دور ایک بڑے سے سرحدی خاکی گیٹ کی جانب پیدل بڑھنے لگے۔ سڑک کے دونوں جانب گنے اور گوبھی کے کھیتوں پر ایک گرم سی ہوا تیر رھی تھی اور گرد نے آسمان کو یوں مٹیالا کر دیا تھا جیسے سورج کے آگے کسی نے این ڈی فلٹر لگا دیا ہو۔ اس سرحدی گاؤں کا نام گنڈا سنگھ والا ہے۔

گیٹ سےکافی پہلے سڑک کے بیچوں بیچ ایک یادداشتی تصویر موجود تھی۔اُس پینٹنگ میں سن 1971 کا زمانہ ہے اور پاکستانی فوجی ایک ہندوستانی قلعے پر قابض ہیں اور اس فاتح رجمنٹ کا نام ہے 41 بلُوچ۔میں اس پینٹنگ کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ وہ تصویر میری آنکھوں کے سامنے دھندلاتی گئی اور پھر اس دھند میں بہت سارے لاپتہ بلوچ چہرے آہستہ آہستہ نمودار ہونے لگے، بالکل آسیب کی طرح۔

سٹیڈیم نما مختصر سا میدان دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس کے مسلمان حصے کا نام گنڈا سنگھ والا ہے اور ہندو حصے کا نام فیروز پور۔ اِس طرف ملیشیا کی شلوار قمیض اور کالے طُرہ والی پگڑیاں ہیں، دوسری جانب خاکی پینٹ شرٹ اور خاکی طرہ والی پگڑیاں اور ان کے پیچھے دور سے دکِھتی رنگ برنگ ساڑھیاں، نیلی پیلی پگڑیاں اور بہت سے سکول کے سفید یونیفارم۔

میں اپنے کیمرے کے لینز سے دوربین کا کام لے رہا ھوں۔ ان کے چہروں پر تھیٹر شروع ہونے سے پہلے کا انتظار اور شانتی تھی۔ میں نے اپنے اردگرد کے چہروں پر نظر ڈالی۔ ان میں وہ بےچینی تھی جو دنگل سے پہلے گاؤں والوں کے اندر ہوتی ہے۔ وہ بار بار اٹھ کر اپنی جگہیں بدلتے اور ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے اپنے ہیجان کو قابو کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

گنڈا سنگھ والے تماشبین گرتی ہوئی للکاروں پر کھُل کر ہنس رہے تھے جبکہ فیروزپوری صرف مسکراتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنگنڈا سنگھ والے تماشبین گرتی ہوئی للکاروں پر کھُل کر ہنس رہے تھے جبکہ فیروزپوری صرف مسکراتے تھے۔

میرے شکاری دوست اپنے اپنے کیمرے لیے مورچے سنبھال چکے تھے۔ ان کے شکار کا آج پہلا دن تھا۔

اور پھر کھیل شروع ہوا۔ گنڈا سنگھ والے جوان زمین کے ماتھے پر پوری قوت سے فوجی بوٹ مارتے ہوئے میدان میں آ کر رکتے اور پھر قطار میں کھڑے ہو کر، بندوق فضا میں اچھال کر سامنے والوں کو ہوا میں للکارتے۔ ان کی للکار کی گونج میرے اردگرد کے ہجوم پر پھیلی تو ان کی بےچینی جیسے سرشاری میں بدلتی چلی گئی اور چہروں کا رنگ سورج کی کرنوں میں سرخ ہوتا گیا۔

اب فیروز پور والے جوان کچھ یوں آگے بڑھے کہ ان کا فوجی بوٹ فضا میں بلند ہو کر پہلے ان کے خاکی طرُہ کو لگتا اور پھر پوری طاقت سے سیمنٹ کے فرش پر پڑتا جو اب اکھڑنے لگا تھا۔

وہ بھی ایک دیوار کی شکل میں آ کر رُکے اور للکار کا جواب للکار سے دیا۔ فیروزپور والوں نے تالیاں بجا کر اپنے جوانوں کو داد دی۔ ان دونوں للکاروں میں کوئی جملہ یا الفاظ نھیں تھے بس آوازیں تھیں جو پیٹ سے نکل کر گلے کو پھاڑتی ہوئی فضا میں بلند ہوتیں اور مخالف جوانوں کے اوپر سے ہوتے ہوئے، سٹیڈیم میں بیٹھے تماشبینوں تک پہنچ کر ان کے سامنے گر جاتیں۔

گنڈا سنگھ والے تماشبین ان گرتی ہوئی للکاروں پر کھُل کر ہنس رہے تھے جبکہ فیروزپوری صرف مسکراتے تھے۔

فضا میں کبھی نعرے بلند ہوتے اورکبھی بندوقیں۔میرے کانوں کے پیچھے نعرہ تکبیر اللہ اکبر، نعرہ حیدری یا علی، پاکستان زندہ باد ۔ او آیا ای ساڈا شیر۔۔۔ھا لا لا لا لا لا۔۔۔ کے فلک شگاف نعرے گونج رہے تھے۔

دونوں پرچم مخالف کی زمین پر ایک ساتھ غروب ہوتے چلےگئے
،تصویر کا کیپشندونوں پرچم مخالف کی زمین پر ایک ساتھ غروب ہوتے چلےگئے

ان کے بیچ ’اڑے او پتلون‘ کی ایک لمبی سی بلوچی بھپتی سنائی دی۔ میں بے اختیار مڑا۔ سمیع بلوچ کے چہرے پر شرارت کھُل کے ناچ رہی تھی۔ آنکھ مار کر بولا۔ تفریح لے را اوں شرجیل بھائی۔ یہ لیاری والے پٹرول چھڑکنا بھی خوب جانتے ہیں۔ تھیٹر کے آخری ایکٹ میں گنڈا سنگھ والا جوان فضا میں بلند سبز ہلالی پرچم کی ڈور تھامے ایک ہی جست میں فیروزپور جا اُترا اور فیروزپوری اپنے ترنگے کی ڈور لے کر تنتناتا ہوا سیما کے اِس پار آ کھڑا ہوا۔ اور پھر دونوں پرچم مخالف کی زمین پر ایک ساتھ غروب ہوتے چلےگئے۔

ہجوم کے اندر پانچ سالہ صلاح الدین نوشاد سے پوچھ رہا تھا۔ پاپا وہ انڈیا والے بہت زیادہ کیوں تھے؟ نوشاد ابھی مسکرا کر ہمیں دیکھ ہی رہا تھا کہ صلو میاں نے دوسرا سوال داغا۔۔ پاپا ان کی والی بلڈنگ ہماری بلڈنگ سے بڑی کیوں تھی؟ یہ بچے بھی کتنے مشکل سوال کرتے ہیں نا؟