کالاش فوتگی پر اپنا گھر لُٹا دیتے ہیں

- مصنف, اعجاز مہر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، چترال
جیسا کہ آپ گزشتہ قسط میں پڑھ چکے ہیں کہ وادی رمبور میں کالاش قبیلے کے میلے سے واپسی پر دو خوبصورت لڑکیوں کے اشارے پر ان کے مکان میں گئے تو انہوں نے پہاڑی ٹیلے پر واقع اپنے گھر کے واحد کمرے میں بٹھایا اور چائے کا پوچھا۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ چائے بہت کم پیتا ہوں اور ابھی موڈ نہیں۔ وہ دونوں لڑکیاں ہمارے ڈرائیور کی جاننے والی تھیں۔ لڑکیوں نے بتایا کہ وہ موسم سرما ہو یا گرمی خاندان کے سارے لوگ ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں۔ کمرے کی دونوں جانب اوپر نیچے دو دو چار پائیاں پڑی تھیں درمیان میں آگ جلانے یا کھانے پکانے کی جگہ تھی۔
<link type="page"><caption> اعتدال پسند چترالی اور طالبان کا خوف </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090514_chitral_diary_one_zee.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اور جب کیلاش لڑکیوں نے اشارہ کیا۔۔۔</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/05/090516_chitral_diary_na.shtml" platform="highweb"/></link>
کچھ دیر بعد اجازت لے کر نیچے اترے تو ڈرائیور عثمان نے بتایا کہ وہ وادیِ بمبوریت کے رہائشی ہیں اور گزشتہ پچیس سال سے ٹیکسی چلاتے ہیں۔ ان کے مطابق اکثر چلم جوشٹ میلے کے موقع پر لڑکے لڑکیاں بھاگ کر شادی کرتے ہیں اور وہ بھاگنے کے لیے ان کی گاڑی کرایہ پر لیتے ہیں۔ ’میں ابھی تک ایک سو بارہ کلاش لڑکیوں کو بھاگ کر پسند کی شادی کرنے میں مدد کرچکا ہوں۔ میرے گھر میں سب کا ریکارڈ پڑا ہے۔‘
میں عثمان ڈرائیور کی باتیں سن کر حیران ہوا اور سوچا کہ کتنا اچھا آدمی ہے کہ ایک سو بارہ لڑکیوں کو پسند کی شادی میں مدد کرچکا ہے۔ خیر اتنی دیر میں پارکنگ میں پہنچ گئے اور کھانا کھانے کے بعد کالاش قبیلے کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی وادی بمبوریت روانہ ہوگئے۔ تقریبًا ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد بمبوریت پہنچے تو یہ وادی بھی بہت خوبصورت لگی۔ گندم کے لہلہاتے کھیت، اونچے ہرے بھرے پہاڑ، اخروٹ، انجیر اور خوبانی کے ان گنت درخت اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیے ہوئے ہیں۔
وادیِ بمبوریت میں چھوٹی دوکانیں ہیں اور کالاش قبیلے کی دوکانوں پر رنگ برنگ کپڑے، موتیوں کی مالائیں، کنگن یعنی کہ ہر وہ چیز جو میلے کے موقع پر کالاش قبیلے کی روایتی اور ثقافت کی عکاس ہے وہ موجود نظر آئیں۔ سامان ہوٹل میں رکھ کر قریب ہی واقع کالاش قبیلے کے گاؤں میں گئے۔ اکثر لوگ عرق خوبانی اور عرق شہتوت پیے مگن نظر آئے۔
اس کالاش گاؤں کے پٹیل شہزادہ خان کے گھر گئے تو ان کی بیگم رحیماں نے اچھی آؤ بھگت کی۔ شہزادہ خان اتنے پڑھے لکھے تو نہیں لیکن وضع دار آدمی لگے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف سمیت کئی معززین، سویلین اور فوجی افسران ان کی بیٹھک میں تشریف لاچکے ہیں۔ انہوں نے ’وزیٹر بک‘ بھی رکھی ہے اور اپنی بیٹھک میں بعض نایاب چیزیں بھی جمع کر رکھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انہوں نے لکڑی کا ایک تختہ دکھایا جس کے اندر قدرتی طور پر مدر ٹریسا کے چہرے سے ملتا جلتا چہرہ بنا ہوا ہے۔ میں بھی دیکھ کر حیران ہوا اور اس لکڑی کی پلیٹ نما پٹی کا بغور جائزہ لیا کہ کہیں کوئی فنکاری تو نہیں، لیکن یہ ایک حقیقی تختی لگی۔
شہزادہ خان نے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ اپنی تصاویر دکھائیں۔ جب ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے پرویز مشرف کو عرقِ خوبانی یا عرقِ شہتوت پیش کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے انکار کیا۔ ان کے مکان کے آس پاس کھیت ہیں اور گندم بوئی ہوئی ہے۔ ساتھ میں انہوں نے گائے اور بکریاں بھی پال رکھی ہیں۔ ان کی بیگم رحیماں نے تازہ پنیر کی پلیٹ اور خشک میوہ پیش کیا اور وہ کھانا پکانے کچن میں بیٹھ گئیں۔ ان کے اہل خانہ کے افراد ایسے باتیں کرنا شروع ہوئے جیسا کہ میں ان کا برسوں پرانا جاننے والا یا کوئی رشتہ دار ہوں۔
رحیماں نے ’آواز دی جانا نہیں میں خاص روٹی بنا رہی ہوں‘۔ گندم کی موٹی روٹی کے درمیان میں اخروٹ کا پاؤڈر ڈال کر انہوں نے روٹی بنائی۔گائیڈ عزیز احمد نے بتایا کہ یہاں ہر گھر میں یا زمین پر اخروٹ کے درخت ہیں اور اس طرح کی روٹی تقریبًا ہر گھر میں بنتی ہے۔ ہم نے رحیماں اور شہزادہ خان سے اجازت لی کیونکہ انہیں میلے میں جانے کی تیاری بھی کرنی تھی اور ہم بھی دن بھر کے سفر کی وجہ سے سخت تھکے ہوئے تھے۔
چترال کی تینوں وادیوں بِریر، رمبور اور بمبوریت کی کل آبادی تقریباً بارہ ہزار کے قریب ہے لیکن اس میں کالاش قبیلے کی آبادی صرف تین سے ساڑھے تین ہزار ہے۔ سب سے خوبصورت اور اہم بات یہ محسوس ہوئی کہ یہاں کے مسلمان اور کالاش آپس میں مذہبی تفریق کے بِناء رہتے ہیں اور ان میں نہایت ہی بھائی چارہ ہے۔ عزیز احمد نے بتایا کہ کچھ مُلا لوگوں نے نفرت پھیلانے کی کوشش بھی کی لیکن چترالی لوگوں نے ان کو ناکام بنادیا۔ مجھے سندھ کا ضلع عمر کوٹ یاد آیا جہاں پچپن فیصد ہندو آبادی ہے اور وہاں کے ہندو اور مسلمان بھی صدیوں سے بِلا مذہبی تفریق کے رہتے ہیں۔

کالاش گاؤں سے نکلے اور گندم کی فصلوں کے بیچ سے گزر کر سڑک پر آئے تو سڑک کنارے ایک جیل نما جگہ نظر آئی اور دروازے کے اندر سے کالاش لڑکیاں جھانکنے لگیں۔ میرے پوچھنے سے پہلے ہی ڈرائیور عثمان نے بتایا کہ یہ مکان یونان کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے بنایا ہے اور کالاش قبیلے کی رسم ہے کہ ہر عورت اپنی ماہواری کے دوران اس مکان میں رہتی ہے۔
ماہواری کے دوران لڑکی شادی شدہ ہو یا کنواری وہ اپنے گھر میں نہیں رہ سکتی۔ جب کالاش عورت بچہ پیدا کرتی ہے تو بھی اس مکان میں آتی ہے اور ٹھیک ہونے تک وہاں ہی رہتی ہے۔ یہ سب باتیں انہوں نے ِبناء کسی وقفے بتادیں ۔
وہاں سے ہوتے ہوئے عزیز احمد مجھے کالاش قبیلے کے قبرستان میں لے گئے جہاں لکڑی کے تابوتوں میں ہڈیاں پڑی تھیں۔ دریا کنارے واقع اس قبرستان میں دیار کے بہت موٹے موٹے درخت تھے اور انہوں نے بتایا کہ یہ درخت پچاس سے سو سال پرانے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کالاش لوگ پہلے مردے کو تابوت میں رکھ کر اس پر بھاری پتھر رکھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے مردوں کو دفن کرنا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کالاش قبیلے میں بہت عجیب و غریب رسم ہے کہ وہ فوتگی پر اپنا گھر لُٹا دیتے ہیں۔ ( اس بارے میں مزید تفصیل چوتھی قسط میں)







