جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن
- مصنف, شرجیل بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے جو کراچی سے وادی کیلاش تک ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جائے گا۔پیش ہے پانچویں قسط

،تصویر کا ذریعہRawal Khan
آج بھی چار گھنٹے کی نیند لینے کے بعد صبح چھ بجے آنکھ کھلی تو باہر آم کے درختوں پر بارش گر رہی تھی۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر میں بھی باہر ٹیرس پر موجود تھا۔ مست ہوا بارش میں بھیگتی ہوئی لڑکی کی طرح ناچ رہی تھی۔ وہ ہمارے نیند بھرے چہروں پر اپنا بھیگا ہوا آنچل بکھیر کر مست بھاگتی جاتی تھی۔
نیچے لان میں سب جمع تھے اور ’رم جھم گرے ساون۔۔۔۔ سُلگ سُلگ جائے من‘گنگناتے ہوئے بس میں سوار ہوتے جا رہے تھے۔ بارش کے قطروں نے ایسا منہ دھلایا کہ صبح کی چائے پیے بغیر بھی سب ترو تازہ تھے۔
لاہور سے موسم نے ملہار سُنا کرالوداع کہا۔ اور موٹر وے پر آتے ہی سورج نے بادلوں کے جُھرمٹ سے آنکھ ماری۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خالی پیٹ سفر کرنا بہت صحیح رہتا ہے۔ آپ کا پیٹ آپ سے کہیں رکنے کا پریشان کن تقاضا نہیں کرتا۔ اور پھر راستے میں سڑک کے کنارے چھپر ہوٹل کے ناشتے میں ایک خاص فقیری اور مہمان نوازی بھی ہوتی ہے جبکہ گیسٹ ہاؤس کے ناشتے میں ایک روکھا پن ہوتا ہے۔
آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے اور یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی فوکر طیارہ لمبے لمبے کھیتوں اور باغوں کے بیچ میں بنے رن وے پر بھاگ رہا ہو۔ اور پھر کسی نے ایئر ہوسٹس کے انداز میں کچھ اعلان کیا تو جیسے سب کو ایک دم بھوک یاد آگئی۔

’عادل بھائی ناشتہ۔ عادل بھائی یارررر ۔۔۔ یاررر ناشتہ کرا دو عادل بھائی۔‘ جاوید شور مچانے میں بالکل نہیں شرماتا۔ باقی مسافر بھی زیر لب مسکراتے ہوئے اس کا ساتھ دینے لگے کہ مشترکہ شور مچانے میں شاید سب کا بھلا ہو جائے۔ مگر میرِ کارواں عادل جدون اس بات پر پوری طرح کاربند رہتا ہے کہ کھانا شدید بھوک کی حالت میں کھانا چاہیے۔ شاید اس نے سن رکھا ہے کہ ذائقہ کھانے میں نہیں بھوک میں چھپا ہوتا ہے۔
گاڑی موٹر وے سے بائیں ہاتھ پر اتر کر شیخوہ پورہ والے کچے راستے پر ہلکے ہلکے ننگے پاؤں بھاگ رہی تھی۔ ’ناشتہ کرا دیں عادل بھائی ۔پلیز۔‘ گاڑی میں موجود گانے گاتی ہوئی آوازیں اب احتجاجی صداؤں میں بدل رہی تھیں کہ اچانک ایک جھیل کے کنارے رکتے ہی وہ سب احتجاج خاموش ہو گیا۔
دور جھیل میں کھڑے ہرن مینار کو ہم سب کھڑکیوں سے منہ باہر نکال کر ایک غیر یقینی احساس کے ساتھ دیکھنے لگے کہ شاید اب ہم یہاں ناشتہ کریں گے۔ اچانک عادل جدون نے پتہ پھینکا۔ ’بھئی اپنے اپنے کیمرے سنبھال کر نیچے آ جاؤ۔ آج ہو جائے پھر۔ دیکھتے ہیں کون کیا لاتا ہے۔ ہمارے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہے۔‘

یہ اعلان کر کے وہ اپنے کیمرے کا بیگ سنبھالتا ہوا کوسٹر سے باہر آکھڑا ہوا۔ ناشہ واشتہ سب بھول گئے اور پتہ نہیں کہاں سے ان کے چہروں پر ایک رنگ آگیا۔ جیسے شکار کا سرخ رنگ۔
ہلکے مٹیالے رنگ کی خاموش جھیل کے دامن میں ہرن مینار کی عمارت کا سرخ لباس بوسیدہ ہو چکا تھا۔ وہ اُس دُلہن کی طرح تھی جو خاموش بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو چکی ہو۔ مگر آج بھی منتظر ہو کہ ہے کوئی حسن پرست جو اس ویرانے میں آئے اور اس کا حسن دیکھ کر اس پہ عاشق ہو جائے۔
میں نے دیکھا یار لوگ اپنے اپنے پستول اور بندوقوں جیسے کیمروں پر چھوٹے بڑے لینزز لگاتے ہوئے خاموشی سے ہرن مینار کے ارد گرد پھیل رہے ہیں۔ جیسے ہرن مینار جھیل میں کھڑا ہوا کوئی ہرن ہو۔ سب دور دور پھیلتے جا رہے ہیں۔
اچانک فضا میں شہد کی مکھیوں جیسی تیز بھنبھناہٹ ہوئی۔ اور بلال کا شکرا ( ڈرون کیمرہ) سو گز کی اڑان بھر کربلند ہوتا گیا اور پھر فضا میں معلق ہوگیا۔ چند لمحے اس نے دائیں اور بائیں دیکھا اور پھر دور تک اڑتے ہوئے وہ جھیل کے عین اوپر رک کر جانے کیا کیا کچھ دیکھتا رہا۔ اور بلال اس کی آنکھ سے جانے کیا کیا کچھ۔

،تصویر کا ذریعہBilal Pandhati
دور کھڑے ہرن مینار میں بزرگ اور خواتین ہمیں ایسے ہاتھ ہلا رہے تھے جیسے وہ وہاں ہم سے پہلے پہنچ کر ہم سے جیت گئے ہوں۔ بزرگوں اور بچوں میں جیتنے کی ایکسائیٹمنٹ بالکل ایک جیسی تھی۔ میرا کیمرہ ان کو بہت دور سے دیکھ رہا تھا۔
عادل جدون ایک پرانے شکاری کی طرح نوجوانوں کو جنگل میں بھیج کر خود جھیل کنارے لیٹ کر چھوٹی چھوٹی رنگین مچھلیوں اور فضا میں معلق پرندوں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ بہت تسلی سے انتظار کرتا ہے کہ کب وہ پرندہ جھیل میں ڈبکی مارے اور وہ اسے ہوا میں ہی معلق کر دے۔ وہ اپنے کیمرے کا ایک ایک کِلک سنبھال کر رکھتا ہے۔ ابھی ابھی اس نے ایک فشر کو ہوا میں پکڑا اور مسکرا کر کیمرے سے آنکھ ہٹا لی۔
جاوید بھی ایک ابھرتا ہوا چُلبلا شکاری ہے۔ وہ شکار کے وقت بھی شرارتیں کرتے ہوا قلقاریاں مارتا رہتا ہے۔ اس کے من میں ایک من موجی منکو (ٹارزن والا منکو) رہتا ہے۔ اور اس مِنکو کو رنگین مچھلیاں اور تتلیاں بہت پسند ہیں۔
وہ پرانے استاد شکاریوں کو تھیلے میں سے اپنی پکڑی ہوئی تتلیاں اور مچھلیاں دکھاکر آنکھ مار کر کہتا ہے ’بول استاد کیسی ہے؟‘ اور اگر کوئی اس منکو کے کان کھینچے تو یہ الٹا اُسی کی ٹوپی اُتار کر بھاگ جاتا ہے۔ جاوید کو ابھی تک کچھ خاص ملا نہیں مگر وہ کچھ نہ کچھ ڈھونڈ ہی لے گا۔
میں نے ان شکاریوں کو مصروف دیکھا اور وہاں سے ہٹ گیا۔ دُور سے نوشاد اور کشور بچوں کو کینٹین سے بسکٹ اور چپس دلا کر لا رہے ہیں۔ صلاح الدین چپس کھاتے ہوئے ماں کے ساتھ چل رہا ہے۔ اور چھوٹی سی فاطمہ اپنے بابا کا ہاتھ پکڑے جھیل کی فصیل پر قدم جما جما کر چل رہی ہے۔

میرے ایک دوست کا کہنا تھا کہ مرد کی اصل ڈارلنگ کوئی اور نہیں اس کی اپنی بیٹی ہوتی ہے۔ نوشاد اپنی چھوٹی سی ڈارلنگ کو اس فصیل پر چلاتے ہوئے اس کے قدم مضبوط کر رہا ہے۔
میری نظر اس اداس دُلہن پر پڑی۔ چلتے چلتے چور نظروں سے میں اسے یوں دیکھتا تھا کہ اس کی نظریں مجھ پر نہ پڑیں ۔اس ڈر سے کہ کہیں وہ بوڑھی حسینہ میرے دل کا حال نہ پڑھ لے کہ میں اس پر عاشق نہیں ہو سکا۔ میں اس کے ارد گرد اس چور کی طرح گھومتا رہا جس کی نظر اس دلہن کی پازیبوں پر ہی رک جاتی ہے۔ ان شکستہ سیڑھیوں میں وہ پھوٹتی ہوئی کونپلیں، اس دلہن کی پازیبوں کی طرح تھیں جس میں پھول کھلنے والے ہوں۔







