میں اور میرا سلطان

    • مصنف, شرجیل بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کُلاچ سے کیلاش ایک قسط وار سفرنامہ ہے۔ کراچی سے وادی کیلاش تک کا یہ سفر ہمارے ساتھی شرجیل بلوچ نے چند منچلے خواتین و حضرات کے ساتھ طے کیا ہے۔ راستہ تو خوبصورت ہے ہی، مگر راہی بھی کم نہیں۔ یہ سفر نامہ ہر اتوار کو قسط وار شائع کیا جاتا ہے۔ پیش ہے 13ویں قسط۔۔

چند لمحوں میں دوسری جیپ بھی ہم تک پہنچ گئی۔ میں ہوٹل کے برآمدے میں کھڑا دھوپ سینکتے ہوئے آنٹی فراست اور دیگر لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔

غور سے دیکھا تو سلطان صاحب اور نور بھائی دونوں اس طرح سے چلتے ہوئے آ رہے تھے جیسے ان کے نیچے سے کسی نے کرسی کھسکا لی ہو اور وہ اسی پوزیشن میں چل کر آ رہے ہوں۔ ان کے چہرے غصے سے بگڑے ہوئے تھے۔ مجھے اچانک دیر بالا سے نکلنے کا منظر یاد آیا۔ میں نے ان دونوں کو جیپ کی آخری دو نشستوں میں پھنسے ہوئے دیکھا تھا۔ اوہ مائی گاڈ۔۔۔

مجھے ایک لمحے میں ساری کتھا سمجھ آ گئی اور اس سے پہلے کہ ان کی نظریں مجھ پر پڑتیں میں دوبارہ ہوٹل کے اسی تاریک باورچی خانے میں گھس گیا اور چبوترے پر بچھے دسترخوان کے قریب بیٹھ گیا جہاں پہلے ہی راول، راجہ، عرفان، نوشاد وغیرہ بچھے پڑے تھے۔

اگلے ہی لمحے سلطان صاحب اور نور بھائی شدید کڑوا چہرہ، قہر آلود نگاہیں اور کانپتے ہوئے وجود لیے نیم اندھیرے میں ہمیں پہچاننے کی کوشش کر رہے تھے۔ سب نے انھیں ایک نظر دیکھا اور پھر آپس میں مگن ہوگئے۔

میں نے ان مظلوموں کو حیرت بھری ہمدردی سے دیکھا۔ بس ایک نظر دیکھنا ہی تھا کہ نور بھائی اور سلطان صاحب اپنی خمیدہ کمر پر ہاتھ رکھے میری جانب یوں بڑھے جیسے میں ان کی دیوارِ گریہ ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے میں نے انھیں اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا جسے انہوں نے چپ چاپ قبول کر لیا اور باقی تمام لوگوں کو اپنی عینک کے اندر سے یوں گھورنے لگے جیسے انھیں ان غنڈوں میں سے اصل مجرموں کی تلاش ہو۔

ملنگ جان اس دوران تیزی سے بھاپ اڑاتا پلاؤ، چنے کی دال، بڑے گوشت کا سالن اور گرم گرم روٹیاں تندور سے نکال کر ہمارے سامنے رکھ چکا تھا۔

شدید بھوک میں اس خوشبو کا اثر یہ ہوا کہ وہ دونوں تشدد زدہ اپنی تمام جسمانی زیادتیوں اور جیپ میں ہونے والے سلوک کو بھول کر جلدی جلدی گرم نان گوشت کےگرم شوربے میں ڈبو ڈبو کر کھانے لگے۔

شوربے میں بھیگی ہوئی بوڑھی انگلیوں میں ہلکی سی کپکپاہٹ اور غصیلے چہروں پر تیز تیز چلتے ہوئے جبڑوں کی کڑکڑاہٹ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سارا انتقام اس بیل سے لے رہے ہوں جس کی بوٹیاں ان کی پلیٹ میں آتی رہیں اور غائب ہوتی رہیں۔ تھوڑا تھوڑا غصہ انھوں نے دال پر بھی اتارا اور چاولوں کو بس معاف کر دیا۔

ایک اور بس کے مسافر اتر کر اس نیم اندھیرے کمرے میں جھانکنے لگے۔ ان کی آنکھیں اندر کے بھرے ہوئے ماحول کو دیکھ کر ایک دم باہر کی رنگین فضا کو دیکھنے لگتیں، جیسے وہ اپنی توجہ بھوک سے ہٹا رہے ہوں۔

دیکھیے شرجیل صاحب۔۔ آپ تو ڈاکٹر بھی ہیں نا۔ سلطان صاحب نے باریک سی آواز میں میرے کان میں رازدارانہ سے ہوتے ہوئے پھر وہی کہانی سنانا چاہی جس میں ان کا 35 سال پرانا ہرنیا، دورے پڑتا کمزور دل اور گھٹنے کے جوڑ وغیرہ وغیرہ سب زیرِ مرمت ہیں۔

انکل آپ کو چاہیے کہ اب آپ دونوں اگلی سیٹوں پر جا کر بیٹھ جائیں۔ دراصل آپ دونوں کی سسُتی کی وجہ سے آپ لوگوں کو پیچھے جگہ ملتی ہے۔ میں نے سرگوشیانہ انداز میں سلطان کو سمجھایا۔

سلطان صاحب نے غور سے اپنی عینک کے اندر سے میری آنکھوں میں گُھس کر، ضمیر کی کھڑکی سے اندر پھیلانگ کر میرے من میں جھانکا۔ جیسے ہی انھیں اطمینان ہوا کہ یہ مشورہ بالکل ایماندارانہ اور ان کی فلاح پر مبنی ہے ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ عود آئی اور دھندلی آنکھوں میں ہلکی سی بجلی کوندی۔ میرے ہاتھوں کو تشکر سے دبا کر بولے ’یقین جانیے آپ کا مشورہ ہمارے لیے ایک تحفہ ہے۔‘

پھر سب نے دیکھا کہ سلطان اور نور بھائی دونوں جیپ کے اگلے دروازے پر یوں ڈٹے کھڑے ہیں جیسے جان پہ کھیل جائیں گے اور سڑک کے دوسری جانب بلال بری طرح پھڑپھڑا رہا ہے۔

لڑکے اس کو پکڑ پکڑ کر سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ ان کی گرفت سے باہر بھی نکلتا تھا اور اس میں رہنا بھی چاہتا تھا۔ وہ ایسا احتجاج کر رہا تھا جسے سب جانتے تھے کہ یہ صرف ضد ہے۔ بات وہی تھی کہ آگے ہم بیٹھیں گے۔ کبھی آنٹی فراست آگے بڑھ کر سمجھاتیں تو کبھی عرفان کھینچتے ہوئے سائیڈ پر لے جاکر منت سماجت کرتا۔

اگلے سفر پر روانگی سے پہلے سلطان صاحب اور بلال شیروشکر ہو چکے تھے
،تصویر کا کیپشناگلے سفر پر روانگی سے پہلے سلطان صاحب اور بلال شیروشکر ہو چکے تھے

ایک بار میں نے بھی اس سندھی مانہڑوں کو آنکھ مار کر رام کرنے کی کوشش کی مگر وہ تو بس اسی طرح رہا جیسے کسی وڈیرے کا ضدی بیٹا ہو۔

’جس کو بیٹھنا ہے بیٹھ جائے، ورنہ یہیں سے واپس چلا جائے۔‘ اچانک عادل جدون کی پاٹ دار آواز بادلوں کی طرح وادی میں گرجی۔

موسم خراب ہوتے دیکھ کر بلال کی پھڑپھڑاہٹ رک گئی اور باقیوں نے بھی سُکھ کا سانس لیا۔

بہرحال سفر کچھ یوں شروع ہوا کہ سلطان صاحب اور نور بھائی اب بھی جیپ کی پچھلی نشستوں پر تھے جبکہ بلال اور رضوان ہماری جیپ کی چھت پر اور ہماری اگلی منزل چترال تھی۔

<link type="page"><caption> کلاچ سے کیلاش تک : پہلی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150809_travelogue_kalach_to_kalash_1st_zz" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> گنڈا سنگھ والے کا دنگل: دوسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150816_travelouge_kulach_to_kailash_ep2_zs" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> قصہ قصور کا: تیسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150823_travelogue_kulach_to_kalash_3_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> میں ہوں عادل لاہوڑی: چوتھی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150830_lahore_sharjil_travelogue_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جھیل میں بیٹھی بوڑھی دلہن: پانچویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150906_sharjil_travellogue_episode5_rh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کھیوڑہ کا نمک زاد: چھٹی قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150913_kolachi_to_kailash_khewra_episode_6_rwa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کٹاس کا طلسم کدہ: ساتویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150920_kolachi_to_kailash_episode_7_katas_raj_zs" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایبٹ آباد کا جدون باغ: آٹھویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150927_travel_kolachi_to_kailash_abbottabad_sh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایبٹ آباد سے دیر بالا: نویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151004_sharjil_travelouge_episode_9_rwa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’میربانی، ڈاکٹر ساب میربانی‘: دسویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151011_sharjil_travelouge_episode_10_zh" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> وہ سانولا سا شرمیلا فوجی: گیارھویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151018_kalachi_to_kailash_episode_11_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> کھاؤ پیو، شکوہ مت کرو: بارہویں قسط</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/10/151025_kolachi_to_kailash_episode_12_mb.shtml" platform="highweb"/></link>