کیا ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہیں؟

زیادہ تر افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ وہ گھر کا معاوضہ حاصل کرنے کےلیے تین تین بار ضلعی انتظامیہ کے پاس درخواستیں جمع کراچکے ہیں
،تصویر کا کیپشنزیادہ تر افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ وہ گھر کا معاوضہ حاصل کرنے کےلیے تین تین بار ضلعی انتظامیہ کے پاس درخواستیں جمع کراچکے ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دیر بالا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں حالیہ بارشوں اور پہاڑوں پر برف باری کے باعث زلزلہ زدہ افراد کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور بیشتر متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ امداد کی تقسیم سیاسی بنیادوں کی جارہی ہے۔

دیر بالا کے صدر مقام دیر خاص میں واقع ضلعی دفاتر کے احاطے اور باہر سڑک کے آس پاس درجنوں زلزلہ متاثرین جمع ہیں۔ ہر متاثرہ شخص نے ہاتھ میں ایک عدد سادہ سفید کاغذ پر لکھائی ہوئی درخواست اور تباہ شدہ مکانات کے تصاویر اٹھا رکھی ہیں۔

ہر کوئی ایک ہی بات کا رونا روتا ہے ’یہ میرے گھر کی تصویریں ہیں صاحب یہ دیکھ لیں، میرا گھر مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے لیکن ہمیں اب تک کوئی امداد نہیں پہنچی ہے۔‘

ہر متاثرہ فرد کے پاس اپنی بربادی کی ایک الگ کہانی بھی ہے اور ہر کوئی اس بات پر زور بھی دیتا ہے کہ کوئی اسکی کہانی سنے اور اس کے ہاتھ کچھ لگ جائے۔

ضلعی انتظامیہ کے دفتر کے باہر موجود متاثرین
،تصویر کا کیپشنضلعی انتظامیہ کے دفتر کے باہر موجود متاثرین

زیادہ تر افراد نے اس بات کی شکایت کی کہ وہ گھر کا معاوضہ حاصل کرنے کےلیے تین تین بار ضلعی انتظامیہ کے پاس درخواستیں جمع کراچکے ہیں لیکن جب وہ درخواست کے بارے افسران سے دریافت کرتے ہیں تو انھیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی درخواست انھیں نہیں ملی ہے۔

ہر کوئی یہ بات بھی تسلیم کرتا ہے کہ دیر بالا میں امداد بڑی مقدار میں آرہی ہے لیکن ان افراد کو مل رہی ہے جنکی کوئی سیاسی وابستگی ہے۔

محلہ شاؤ کے ایک طالب علم توصیف خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گذشتہ روز براوال کے علاقے میں امداد تقسیم کی گئی اور متاثرین کو چیک بھی ملے ہیں کیونکہ وہاں کے ایم پی اے عنایت اللہ صوبائی وزیر ہے اور انھوں نے اپنے حلقے میں خود امداد تقسیم کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں یا افسران سے تعلقات نہیں ہے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔

محلہ شاؤ کے ایک اور باشندے فضل ربی کے مکان کو زلزلے کی وجہ سے جزوی نقصان ہوا تھا لیکن حالیہ بارشوں کے باعث ان کا بچا کچا گھر مکمل طورپر تباہ ہوا ہے جو اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ فضل ربی اور اس کے خاندان نے قریبی پرائمری سکول میں پناہ لے رکھی ہے جہاں ان کے بچے شدید سرد اور برفیلی ہواؤں کی وجہ سے کھانسی اور سینے کی بیماروں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

دیر بالا میں تقریباً 15 سرکاری سکولوں میں درجنوں خاندان پناہ گزین موجود ہیں۔ علاقے میں تمام سکول تو کھل گئے ہیں لیکن جن سکولوں میں متاثرین مقیم ہیں وہاں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ تاحال رکا ہوا ہے۔

فضل ربی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے انھیں نوٹس دیا گیا ہے کہ وہ فوری طورپر سکول خالی کردیں اور اپنے لیے کوئی اور انتظام کریں۔

سکولوں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچوں کے سردی سے متاثر ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
،تصویر کا کیپشنسکولوں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچوں کے سردی سے متاثر ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

ان کے بقول ’ہم کدھر جائیں بچوں اور خواتین کو کہاں لے جائیں۔ گھر تو ہمارے تباہ ہوچکے ہیں، اب حکومت ہمیں کوئی متبادل طریقہ بتائے تاکہ ہم اس پر عمل کرلیں۔‘

اوہ کہتے ہیں ’ ہمارے ساتھ ایسا سلوک ہورہا ہے جیسے ہم اس ملک کے شہری نہ ہوں بلکہ ہم افغانستان یا ہندوستان سے آئے ہوں۔‘

دیر بالا میں آجکل شدید سردی پڑرہی ہے اور رات کو درجہ حرارت نقط انجماد سے تین درجے نیچے چلا جاتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک علاقے میں برف باری شروع ہوجائےگی جس سے خدشہ ہے کہ زلزلہ زدگان کے مسائل دگنے ہو جائیں گے۔ متاثرین کے پاس سر چھپانے کے عارضی پناہ گاہیں تو ہیں لیکن سردی اور برف باری سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں جس سے سکولوں اور دیگر عارضی پناہ گاہوں میں مقیم بچوں کے سردی سے متاثر ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

دیر کے مقامی صحافی محمد عمران کا کہنا ہے کہ دیگر اضلاع کے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن دیر میں ابھی پہلہ مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ان کے بقول امداد کی تقسیم ذاتی پسند ناپسند، سیاسی وابستگی اور اثر رسوخ کی بنیاد پر کی جارہی ہے اور بیشتر غریب اور سفید پوش متاثرین فاقوں کا شکار نظر آتے ہیں۔

 ہر متاثرہ شخص نے ہاتھ میں ایک عدد سادہ سفید کاغذ پر لکھائی ہوئی درخواست اور تباہ شدہ مکانات کے تصاویر اٹھا رکھی ہیں
،تصویر کا کیپشن ہر متاثرہ شخص نے ہاتھ میں ایک عدد سادہ سفید کاغذ پر لکھائی ہوئی درخواست اور تباہ شدہ مکانات کے تصاویر اٹھا رکھی ہیں

تاہم دوسری طرف دیر بالا کے اسسٹنٹ کمشنر اور آپریشنل انچارج آصف علی کا کہنا ہے کہ امداد کی تقسیم انفرادی سطح پر نہیں بلکہ علاقے کے سروے اور نقصان کا تخمینہ لگانے کے بعد کی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دیر میں اب تک تین ہزار خمیے، پانچ ہزار کمبل اور دو ہزار فوڈ پیکیج تقسیم کیے جاچکے ہیں لیکن چونکہ نقصان زیادہ ہوا ہے اور بارشوں نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے لہذا مزید امداد کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سرکاری افسر نے کہا کہ امداد کی تقسیم میں بدعنوانیوں کے خاتمے کےلیے تین سرکاری ادارے اس کام پر مامور ہیں جس میں ضلعی انتظامیہ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور فوج شامل ہے اور ان اداراوں کی موجودگی میں کرپشن کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔

صوبے کے ان علاقوں میں جہاں سردی کی شدید زیادہ ہے وہاں اگر متاثرین کو فوری طورپر سردی سے بچانے کےلیے انتظامات نہیں کیے گئے تو ایک قدرتی آفت تو زلزلے کی شکل میں ُآچکی ہے جبکہ دوسری قدرتی آفت سردی ثابت ہوسکتی ہے۔