زلزلہ، سردی اور بغیر چھت کے سکول

لوئر دیر میں زلزلے سے تباہ شدہ ایک سکول کا منظر
،تصویر کا کیپشنلوئر دیر میں زلزلے سے تباہ شدہ ایک سکول کا منظر
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں حالیہ زلزلے سے متاثر ہونے والے زیادہ تر سکولوں میں شدید سرد موسم کے باوجود بچے کھولے آسمان تلے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہیں جس سے زلزلے سے خوف زدہ ننھے منے بچوں کے بیمار ہونے کا خطرہ پیدا ہورہا ہے۔

دیر میں اکثریتی تباہ ہونے والے سکول پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں واقع ہیں جہاں شدید سردی کا موسم پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ ان علاقوں میں مجموعی طورپر تعلیمی شرح پہلے ہی انتہائی کم رہی ہے اور اگر بروقت متبادل انتظامات نہیں کیے گئے تو یہاں ہزاروں طلبہ کی تعلیم میں تعطل آ سکتا ہے۔

تاہم ان متاثرہ سکولوں کی فوری بحالی اور یہاں بچوں کو شدید سرد موسمی خطرات سے بچانے کےلیے خیموں کے انتظام جیسے دیگر اقدامات کے تاحال کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ دیر میں زلزلے کے تیسرے دن تمام سرکاری تعلیمی کھول دیے گئے تھے لیکن متاثرہ سکولوں میں بچوں کی حاضری بدستور نہ ہونے کے برابر ہے۔

لوئر دیر کے صدر مقام تیمر گرہ کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے رباط جوگی بانڈہ اور غوزانو کلے میں زلزلے کی وجہ سے دو پرائمری سکول تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک سکول کی عمارت مکمل طورپر زمین بوس ہوگئی ہے جبکہ دوسرے سکول کی عمارت میں گہرے دراڑیں پڑ چکی ہے جس میں بچوں کے لیے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا ایک بڑے خطرے سے کم نہیں۔ اس علاقے میں بچیوں کا کوئی علیحدہ گرلز سکول نہیں ہے بلکہ ان ہی پرائمری سکولوں میں بچیاں بھی بچوں کے ساتھ پڑھتی ہیں۔

ان سکولوں تک پہنچنے میں ہمیں ایک گھنٹے تک پہاڑی علاقے میں بذریعہ گاڑی اور کچھ وقت پیدل سفر کرنا پڑا۔ سڑک کی خرابی کے باعث اس پہاڑی علاقے میں عام گاڑیاں نہیں جا سکتی بلکہ وہاں کی پک اپ یا فور بائی فور گاڑیاں ہی جا سکتی ہیں۔

خیبر پِختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے صوبہ بھر میں تقریباً 1235 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے
،تصویر کا کیپشنخیبر پِختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے صوبہ بھر میں تقریباً 1235 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے

دونوں سکولوں میں بچے کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھے ہوئے نظر آئے اور بچے سہمے سہمے اور ڈرے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

غوزانو کلی پرائمری سکول میں زیر تعلیم پانچویں جماعت کے ایک طالب علم ذاکر اللہ نے کہا کہ زلزلے کے بعد انھیں سکول آتے ہوئے اب خوف محسوس ہوتا ہے اور دیگر طلبہ کا بھی یہی حال ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سکول کے دونوں کمرے زلزلے کے باعث منہدم ہو چکے ہیں اور چاردیواری میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور ہمیں خطرہ رہتا ہے کہ کہیں بارش یا تیز آندھی کی وجہ سے باقی ماندہ دیواریں گر نہ جائیں۔

ان کے مطابق ’صبح کے وقت ہمیں سخت سردی لگتی ہے کیونکہ ہوا بھی چلتی ہے۔‘

جوگی بانڈہ سکول کے ہیڈ ٹیچر گل حمید جان نے کہا کہ علاقے میں سکول تو کھول دیے گئے ہیں لیکن بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں سکولوں میں طلبہ کی کل تعداد تقریباً 300 کے قریب تھی لیکن آج کل 100 کے قریب بچے سکول آ رہے ہیں۔

ہیڈ ٹیچر نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی سیاسی رہنما یا سرکاری اہلکار نے ان کے سکول کا دورہ نہیں کیا اور یہی حال دیگر قرب و جوار میں واقع تباہ ہونے والے سکولوں کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت کی طرف سے زلزلے سے متاثرہ تعلیمی اداروں میں متبادل انتظام کے لیے خیموں کا بندوبست کیا جا رہا ہے لیکن ابھی تک اس ضمن میں کسی نے رابط نہیں کیا ہے۔

سکول تو کھول دیے گئے ہیں لیکن بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے
،تصویر کا کیپشنسکول تو کھول دیے گئے ہیں لیکن بچوں کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے

ادھر خیبر پِختونخوا کی حکومت نے کہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے صوبہ بھر میں تقریباً 1235 سکولوں کو نقصان پہنچا ہے جس میں 135 تعلیمی ادارے مکمل طورپر تباہ ہوچکے ہیں جن کی عمارتیں اب استعمال کے قابل نھیں رہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تباہ شدہ سکولوں میں تعلیمی سلسلہ برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کردیا ہے اور اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے سات اضلاع پر مشتمل ملاکنڈ ڈویژن میں گذشتہ تقریباً آٹھ سالوں کے دوران تعلیمی اداروں کو شدت پسندی اور قدرتی آفات کے باعث ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے جس سے ہزاروں بچوں کے تعلیمی سلسلے میں تعطل آیا اور سینکڑوں طلبہ تعلیم کے زیور سے محروم بھی ہوئے۔

ان اضلاع میں پہلے شدت پسندوں نے تقریباً 700 کے قریب سکولوں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا اور جب کچھ بہتری آئی تو سنہ 2010 میں ملک کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس سے سینکڑوں سکولوں کو نقصان پہنچا تھا۔