حالیہ زلزلہ 2005 کے زلزلے سے مختلف کیوں؟

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
- مصنف, احمد رضا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں پیر کو آنے والے زلزلہ اکتوبر 2005 میں آنے والے زلزلے سے اپنے جغرافیائی اثرات اور شدت سمیت کئی اعتبار سے مختلف ہے۔
آٹھ اکتوبر 2005 میں آنے والے زلزلے کی شدت رکٹر سکیل پر سات اعشاریہ چھ ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ پیر 2015 کو آنے والے زلزلے کی شدت سات اعشاریہ پانچ تھی۔
2005 کے زلزلے کا مرکز پاکستان کے شمال مشرق میں مظفرآباد سے لگ بھگ 19 کلومیٹر دور شمال مشرق میں تھا اور اس کی گہرائی محض سطح زمین سے محض 26 کلومیٹر تھی جبکہ 10 برس بعد پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے قصبے کُرَان و مُنْجَان سے 45 کلومیٹر شمال کی میں تھا اور اس کی گہرائی 212 کلومیٹر تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوں پیر کا زلزلہ 2005 کے زلزلے کے مقابلے میں سطح زمین سے 20 گنا زیادہ گہرائی میں تھا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پیر کے زلزلے سے نسبتاً تباہی کم ہونے کا بڑا سبب اس کے مرکز کا زیادہ گہرائی میں ہونا تھی۔
اگر دونوں قدرتی آفتوں کا تقابل کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2005 کے زلزلے کے نتیجے میں 75 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور صوبہ خیبرپختونخوا میں 73 ہزار 338 اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 1360 اموات ہوئیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان میں 2005 کے زلزلے سے جو خطہ متاثر ہوا، اسے ماہرین ہمالیائی سلسلے کے ہزارہ کشمیر جوڑ کہتے ہیں جبکہ تازہ زلزلے سے ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں آیا ہے۔
اُس زلزلے سے مجموعی طور پر 6 لاکھ مکانات، 35 لاکھ کی آبادی اور 30 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا تھا۔ سب سے زیادہ عمارتیں مظفرآباد اور بالاکوٹ میں تباہ ہوئی تھیں جبکہ دوسرے متاثرہ علاقوں میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں واقع باغ اور راولا کوٹ کے علاوہ خیبر پختونخوا کے بٹگرام، ایبٹ آباد، ناران کاغان اور اسلام آباد شامل تھے۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق تازہ زلزلے کا مرکز چترال سے محض 67 کلومیٹر دور واقع تھا اسی لیے چترال اور زلزلے کے مرکز کے نسبتاً قریب پاکستان کے شمال مغربی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں شانگلہ، لوئر دیر، اپر دیر، سوات وغیرہ شامل ہیں۔







