پاکستان میں زلزلے کے بعد اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں پیر کو آنے والے زلزلے کے بعد اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ تباہی صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئی جہاں 184 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنملک میں اب تک مجموعی طور پر 228 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم مالی اور جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ آج سے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سروے شروع ہوگا۔
،تصویر کا کیپشنئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ ایف ڈبلیو او نے شاہراہ قراقرم پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہونے والے 45 میں سے 27 مقامات کو کھول دیا ہے۔ انھوں نے بتایا ریسکیو ٹیمیں گلگت بلستان کے مختلف علاقوں میں پھیل چکی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوج کے ترجمان عاصم باجوہ کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق ضلع دیر میں زلزلہ متاثرین کے لیے فوج کی جانب سے 20 ٹن راشن، تیار شدہ کھانے کے 10 ہزار پیکٹس، 500 خیمے اور کمبل بھجوائے گئے ہیں۔ علاقے میں ریلیف کیمپ اور راشن کی فراہمی کے لیے خصوصی سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنگلگت بلتستان میں آٹھ، پنجاب میں پانچ اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں سب سے زیادہ مالی نقصانات کے پی کے میں ہوئے۔2520 منہدم ہونے والے مکانات میں سے 2102 مکانات اسی صوبے میں موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنزلزلے کے بعد مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنفوج کے ترجمان کے مطابق ایک سی ون تھرٹی طیارہ سات ٹن راشن اور تیار خوراک کے 2500 پیکٹس لے کر چترال روانہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ طیارے میں طبی عملہ، 100 خیمے اور کمبل بھی چترال بھجوائے گئے ہیں۔ یہ امداد گلگت کے دور دراز کے علاقوں کے زلزلہ متاثرین تک پہنچائی جائے گی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور67 زخمی ہوئے ہیں جبکہ سندھ اوربلوچستان محفوظ رہے۔
،تصویر کا کیپشناین ڈی ایم کا کہنا ہے کہ گلگت بلستان میں زلزلے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ تباہی غذر اور دیامیر میں ہوئی۔ غذر میں چار ہلاکتیں ہوئی اور 50 مکانات تباہ ہوئے جبکہ دیا میر میں دو ہلاکتیں ہوئیں اور 40 مکانات تباہ ہوئے۔
،تصویر کا کیپشناقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے زلزلے سے ہونے والی جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر درخواست کی گیی تو پاکستان کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔