پاکستان میں دوگلیشیئرز پھٹ گئے، متعدد میں دراڑیں

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
- عہدہ, ماحولیات رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس
پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی وجہ سے قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع دو گلیشیئرز پھٹ گئے ہیں جبکہ متعدد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وادیِ ہنزہ میں الترگلیشیئر پھٹنے سے سیلابی صورتِ حال پیدا ہوئی تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کے نتیجے میں ان گلیشیئرز میں پڑنے والی دراڑیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ آفٹر شاکس سے یہ گر سکتے ہیں اور ان سے پانی کا اخراج ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرنے اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے ترقی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز میں دراڑیں پڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہاں گلیشیئرز کی وجہ سے مزید جھیلیں وجود میں آئیں گی اور ان کے کبھی بھی پھٹ جانے کا خدشہ موجود رہے گا۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ چترال اور دوسرے متاثر علاقوں میں موجود ان گلیشیئرز کی حالت کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ابھی تک افغانستان میں کوہ ہندکش سلسلے میں گلیشیئرز کے پھٹنے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا۔
سائنس دانوں نے متنبہ کیا کہ زلزلوں کے بعد گلیشیئر سے بننے والی جھیلیں پھٹنے سے سیلاب آ سکتے ہیں۔
تازہ ترین تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلیشیئر سے بننے والی 30 سے زیادہ جھیلیں خطرناک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق گذشتہ ایک صدی کے دوران نیپال، پاکستان، بھوٹان اور چین میں گلیشیئر سے بننے والی جھیلیں 40 سے زیادہ بار پھٹ چکی ہیں۔
پاکستان میں واقع ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں سب سے زیادہ گلیشیئرز ہیں۔اس پہاڑی سلسلے میں گلیشیئرزکے پگھلنے، معمول سے زیادہ بارشوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں گلیشیئرز جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں 50 ہزار کے قریب گلیشیئرز موجود ہیں۔







