گلیشیئر میں دبے فوجیوں کے لیے پیکج

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان میں صوبہ پنجاب کی حکومت نے گلگت بلتستان صوبے کے گیاری سیکٹر میں گلیشیئر کے تودے تلے دبے ہوئے فوجی اہلکاروں کے اہلیخانہ کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔
اس پیکج کا اعلان پنجاب میں برسرِ اقتدار جماعت، مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف نے گلگت بلتستان کے شہر سکردو میں کیا۔
میاں نواز شریف گیاری سیکٹر کے فضائی معائنے کے بعد سکردو پہنچے تھے جہاں انہوں نے گلیشیئر کے تودے تلے دبے ہوئے نو فوجیوں کے اہلیخانہ پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔
پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مجاہد شیر دل بھی میاں نواز شریف کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ پانچ لاکھ روپے کے چیک، ملک بھر سے گیاری سیکٹر میں حادثے کے وقت تعینات ایک سو چونتیس فوجیوں کے اہلیخانہ کو دیے جا رہے ہیں جن میں سے چوہتر کا تعلق گلگت بلتستان ہے۔
میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ حکومتِ پنجاب، گیاری سیکٹر میں دبے ہوئے ہر فوجی کے اہلیخانہ میں سے ایک فرد کو صوبے میں نوکری فراہم کرے گی۔
سکردو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ظہیرالدین بابر کے مطابق تاحال پاکستانی فوج نے گیاری سیکٹر میں دبے ہوئے اہلکاروں کی زندگیاں ختم ہو جانے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں دیا لیکن حکومتِ پنجاب نے لواحقین کو امداد دینا شروع کر دی ہے۔
امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ’یہ نہیں کہ خدانخواستہ شہید ہو گئے ہیں تو (امدادی پیکج) ملے گا۔ اُن کے خاندان اِس وقت جس کیفیت میں ہیں، اُن کے سر پہ ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب گیاری سیکٹر میں گلیشیئر کے تودے تلے دبے ہوئے فوجیوں کے بچوں کو تعلیم تربیت کی سہولتیں فراہم کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سکولوں، میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت اور رہائش کے تمام اخراجات حکومتِ پنجاب ادا کرے گی۔‘
مجاہد شیر دل نے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے گیاری سیکٹر میں جاری کارروائی میں حصہ لینے والوں کے لیے تین سو بستر اور دو سو خیمے بھجوائے گئے ہیں۔







