ہمالیہ کی گلیشئیر جھیلوں کا سروے

- مصنف, نو ین سنگھ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
سائنس دانوں نےطویل عرصے کے بعد نیپال میں واقع ہمالیہ کے گلیشئیر سے بننے والی جھیلوں کے ایک سروے کا آغاز کیا ہے جن میں سے کچھ کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عالمی حدت کی وجہ سے خطرناک حد سے بڑھ رہی ہیں۔
رواں سال مئی میں سائنس دانوں نے ایورسٹ کے خطے میں واقع ایک جھیل کا پہلا زمینی سروے مکمل کیا۔ جبکہ رواں سال کے آخر میں نیپال کی ہمالیہ کے وسطی اور مغربی حصوں میں واقع گلیشئیر سے بننے والی دیگرجھیلوں کے سروے بھی کیے جائیں گے۔
پہاڑوں کے متعلق ایک بین الاقوامی سینٹر سے منسلک موسمیاتی تبدیلیوں کے ماہر ارون بھکتا شریستھا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تحقیق کا دائرہ کار کوہ ہندو کش کے ہمالیہ سلسلے میں آنے والے ممالک تک بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ہندو کش ہمالیہ سلسلہ مغرب میں برما اور مشرق میں افغانستان تک پھیلا ہوا ہے ۔ یہ خطے میں برف سے ڈھکے ہوئے ہیں جس میں دنیا کے چند بلند ترین پہاڑ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیق کا مقصد خطے میں آنے والے سیلابوں کا مشاہدہ کرنا ہے جوگلیشئیر سے بننے والے جھیلوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے آسکتے ہیں۔
پہلے زمینی سروے کے بعد سائنس دان نیپال کی ایورسٹ میں واقع امجا جھیل سے حاصل ہونے والی معلومات کا مشاہدہ کر رہے ہیں تاہم اس بارے میں حتمی نتائج کو جاری کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔
سروے کرنے والی ٹیم میں شامل پردیپ مول نے ابتدائی مشاہدے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ امجا جھیل اور اس کے اردگرد تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔’اس کے کچھ حصے پھیل رہے ہیں اور اس کے اردگرد اکھٹا ہونے والے ملبے میں بھی تبدیلی محسوس کی جاسکتی ہے لیکن میں اسے خطرناک صورتحال نہیں کہوں گا۔‘
سائنس دانکے ساتھ ساتھ اب کوہ پیما بھی ان تبدیلیوں کے بارے میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماؤنٹ ایورسٹ کو ریکارڈ وقت میں سر کرنے والے آپا شرپا کے مطابق گذشتہ ماہ جب وہ انیسویں بار دنیا کی سب سے بلند چوٹی سر کرنے کے لیے جا رہے تھے تو انہوں نے آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر تازہ پانی دیکھا تھا۔ ’ مجھے اتنی بلندی پر پانی دیکھ کر شدید حیرت ہوئی کیونکہ اس سے پہلےسوائے برف کےاور کچھ نظر نہیں آتا تھا۔‘
ان کا ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کا مقصد گرین گروپ ’ ڈبلیو ڈبلیو ایف‘ کی جانب سے ہمالیہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں شعور پیدا کرنا تھا۔
ہمالیہ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تقریبًا بیس سال پہلے کچھ سروے کیے گئے تھے۔ جبکہ زیادہ تر سروے مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات اور تصاویر سے ڈیسک پر کمپیوٹر کے ذریعے کیے جاتے تھے۔
گلیشئیرسے بننے والی جھیلوں کا پھیلاؤ سیلاب کا سبب بنتا ہے اور سیلابی ریلہ سٹرکوں ، عمارتوں یہاں تک کہ پورے کا پورا مواصلات کا نظام تباہ ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں ادارے نے دس سال پہلے کیے گیے ایک سروے میں خبردار کیا تھا کہ بھوٹان اور نیپال میں گلیشئیر سے بننے والی جھیلیں تیزی سے پھیل رہی ہیں جو دو ہزار نو تک سیلاب کا سبب سکتی ہیں۔
نیپال کے ہمالیہ سلسلے میں 3300 کے قریب گلیشئیر ہیں جن میں سے 2300 گلیشئیر جھیلیں ہیں۔







