موسم کی شدت کے باعث امدادی کام معطل

- مصنف, محمد عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سوات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں شدید بارش اور برف باری کے باعث امدادی کام روک دیے گئے ہیں اور ہسپتالوں میں ٹھنڈ لگنے سے بیمار ہونے والے مریضوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔
سوات، شانگلہ، اپر دیر اور چترال میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
موسم خراب ہونے کی وجہ سے امدادی کاموں میں بھی تعطل آیا ہے اور اُن ہیلی کاپٹروں کی پروازیں روک دی گئی ہیں جو امدادی سامان یا عملہ لے کر مختلف اضلاع جا رہے تھے۔ اس سورتحال میں متاثرین کی مشکلات اور خوف میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مینگورہ میں ترجمان کرنل فاروق فیروز کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم ٹھیک ہو گا دوبارہ امدادی کام شروع کر دیا جائے گا۔ ’موسم کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے کام یقیناً رکتا تو ہے لیکن پھر موسم ٹھیک ہوتے ہی ہم یہ کام دوبارہ شروع کردیتے ہیں اور 2005 کے زلزلے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔‘
سوات کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر کہتے ہیں اُن کے پاس فنڈز ہیں اور وہ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے بھر پور انداز میں کام کر رہے ہیں۔
’اِس زلزلے میں ایک طریقے سے میں خوش قسمت رہا کہ زلزلہ آنے سے پہلے ہی میرے پاس ایک کروڑ روپے سے زیادہ فنڈز موجود تھے۔ تو بطورِ ڈپٹی کمشنر مجھے اِس بار کسی کی طرف دیکھنا ہی نہیں پڑا۔ زلزلے کے بعد دو گھنٹے کے اندر میں اسپتال پہنچ گیا تھا اور تمام کام کی خود نگرانی کررہا تھا۔‘
مینگورہ میں ڈپٹی کمشنر نے اسپتال کا خود معائنہ کیا لیکن مینگورہ سے ذرا دور پہاڑ کی بلند ترین چوٹی پر رہنے والوں کا حال بالکل مختلف ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
ٹاپ سین مینگورہ سے دس کلومیٹر اوپر پہاڑ میں واقع ہے اور وہاں جانے کے لئے ایک گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا ہے۔ یہاں کے منتخب یوتھ کونسلر محمد خان کہتے ہیں پٹواری اور فوجی ٹیموں کے ساتھ یہاں آئے تھے لیکن یہاں زیادہ تر آبادی غریب ہے اور بغیر کاغذات کے مکانات بنا کر رہ رہی ہے۔ لہذا اُنھوں نے اندراج نہیں کیا۔ یہیں کے ایک اور رہائشی کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا پورا گھر تباہ ہوگیا ہے لیکن صرف ایک پلر موجود ہے تب بھی اُس کو پیسے نہیں دیے جا رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اُدھر عالمی امدادی ادارے ریڈ کریسنٹ کے شعبہ آفات کے سربراہ کسفر عباس کہتے ہیں کہ جتنے نقصان کا اندازہ لگایا گیا تھا اصل میں نقصان اُس سے کہیں ذیادہ ہے۔
’اگر حکومت کہتی ہے اُسے عالمی مدد نہیں چاہیے تو اِس کا مطلب ہے کہ اُس کے پاس ذرائع موجود ہیں لیکن یہاں لوگوں کو اب اِس ٹھنڈ میں اِس کے حساب سے امدادی سامان چاہیے مثلاً وِنٹر ٹینٹ، سی جی آئی شیٹس اور ٹارپولین شیٹس جن سے وہ اپنا شیلٹر بنا کر اپنے کو محفوظ بنا سکیں۔‘
موسم کی صورتحال اور شدید سردی کی وجہ سے لوگوں کو جو مشکلات درپیش ہیں اُن کے مقابلے میں یہاں حکومتی اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے مدد پہنچانے کا عمل سست ہے اور دور پہاڑوں میں مسکن بنانے والے اور سادہ زندگی گزارنےوالے کبھی اوپر اور کبھی نیچے والوں کی جانب مدد کے لئے دیکھتے ہیں۔







