زلزلہ اسلام آباد کے لیے خطرے کی گھنٹی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ریڈ فالٹ ایریا میں موجود پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آنے والے غیر معمولی زلزلے کے بعد یہاں کی انتظامیہ بلند عمارتوں کا سروے کر رہی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ بلڈنگ کوڈ پر نظر ثانی کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
سی ڈی اے کے چیئرمین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہاں کی عمارتیں نو کی شدت سے آنے والے زلزلے کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہیں لیکن دوسری مرتبہ بھی اسلام آباد کا سروے کیا جائے گا۔
تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی ڈی اے کےایک سینیئر انتظامی رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے ملک سمیت سی ڈی اے کے لیے ایک وارننگ کال ہے کہ آپ بلڈنگ کوڈ لاگو کرنے کو یقینی بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے اب ایک نوٹس جاری کر رہا ہے کہ ’گراؤنڈ پلس فور اور اس سے زیادہ بلند عمارتوں کے مالکان سٹرکچرل انجینئیروں سے دوبارہ معائنہ کروائیں اور رپورٹ جمع کروائیں۔‘
انھوں نے تصدیق کی کہ کسی عمارت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع تو نہیں ملی مگر ’سیکٹر ای الیون میں کئی عمارتوں کو خطرے کے پیشِ نظر سیل کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ سیکٹر سی ڈی اے کی حدود میں شامل نہیں تاہم سی ڈی اے کی ریگیولیٹر کی حیثیت وہاں کی ہاؤزنگ سوسائٹیوں کی انتظامی کمیٹیوں کو پیر کو بلایا ہے۔
سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسلام آباد میں موجود ڈھائی لاکھ یونٹس کا جا کر انفرادی طور پر معائنہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب دارالحکومت میں مکانات اور عمارتوں میں جو دراڑیں پڑی ہیں اس سے عوام میں خوف پیدا ہوا ہے۔ دارالحکومت میں مقیم بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سی ڈی اے کا انتظار کرنے کے بجائے شہر میں موجود پرائیویٹ انجینئیروں سے رابطہ کر رہے ہیں۔
سیکٹر ایف الیون میں موجود ایک رہائشی فلیٹ کی ایک مکین نے بتایا کہ انھوں نے اپنے طور پر پرائیویٹ انجینئیر کو بلوا لیا ہے۔ انھیں تو خیریت کی خبر ملی ہے لیکن اردگرد موجود رہائشی فلیٹس سے کچھ اچھی خبریں موصول نہیں ہو رہی، جہاں کے مکین کمروں کی دیواروں پر پڑنے والے دراڑوں سے خوف زدہ ہیں کہ مستقبل میں اگر اتنی ہی شدت کا زلزلہ آیا تو کیا وہ محفوظ رہ سکیں گے؟

سیکٹر ای الیون کے ایگزیکٹیو بزنس پلازا کو سیل کر دیا گیا ہے۔
تاہم اسی سیکٹر میں یٰسین پلازہ کے مالک نے بی بی سی سے گفتگو میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پلازا بالکل ٹھیک ہے لیکن لوگ یونہی شور کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ایگزیکٹیو بزنس پلازا کی کچھ ہی ٹائلیں گری ہیں لیکن الفلاح بینک اور الائیڈ بینک نے اپنے بینک بند کر دیے ہیں۔‘
محمد صدیق بھٹی سی ڈی اے کی جانب سے تصدیق شدہ انجینیئیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی کمپنی کی جانب سے بہت سی عمارتوں کا سروے کیا گیا ہے جن میں سکول اور دیگر عمارتیں شامل ہیں تاہم ابھی تک کوئی ایسی عمارت سامنے نہیں آئی جس سے یہ کہا جائے کہ کسی عمارت کو خطرہ ہے یعنی کسی عمارت کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی رپورٹ نہیں ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک اسلام آباد زلزلے کے زون ٹو بی میں آتا ہے۔ ’کیا حالیہ زلزلے سے کوئی فالٹ لائن تو نہیں بنی یا پہلے والی کلوز آئی، اس کا پتہ دوبارہ سیسمک چیک سے چل سکتا ہے۔‘

ماہرِ ارضیات قاسم جان کہتے ہیں کہ شمالی پاکستان کے علاوہ، ہمالیہ، پامیر اور کوہ ہندوکش میں زلزلے ایک کروڑ سے زیادہ سالوں سے زلزلے آتے رہے ہیں اور یہ آتے رہیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں زلزلے سے نقصان دراصل عمارتوں میں بلڈنگ کوڈ کو مدِنظر نہ رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
’شمالی علاقوں میں پرانے زمانے میں عمارتوں میں لکڑی کا استعمال زیادہ ہوتا تھا جو زلزلے کے خلاف مدافعت رکھتی ہے، شاید ان لوگوں نے اپنے تجربات سے سیکھا تھا کہ لکڑی قدرے محفوظ ہوتی ہے، آج کل اس کا استعمال کم نظر آتا ہے۔‘
ڈاکٹر قاسم جان کہتے ہیں کہ حکومت کبھی بھی پانچ منٹ کے اندر آپ کی مدد کے لیے نہیں آ سکتی لیکن زلزلے کے نقصانات ابتدائی لمحوں میں سامنے آ جاتے ہیں اس لیے ضروری یہ ہے کہ پیشگی اقدامات کیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ گھر بناتے وقت دیکھ لیں کہ ’اس کی لوکیشن کیا ہے، آپ کس قسم کا مٹیریل استعمال کر رہے ہیں، بنیاد کتنی مضبوط ہے، گھر کو بلڈنگ کوڈ کے مطابق بنایا ہے یا نہیں۔‘







