خیبرپختونخوا میں 225 ہلاکتیں، ریلیف آپریشن جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں حالیہ زلزلے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 272 ہوگئی ہے جن میں سے دو 225 ہلاکتیں خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جہاں اب حکام کے مطابق بڑے پیمانے پر ریلیف کا کام جاری ہے اور لوگوں تک امداد پہنچائی جا رہی ہے ۔
اکثر علاقوں سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پہنچنے والی امداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
سرکاری سطح پر زلزلے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے علاوہ کوئی 25000 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے آج ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کی تعداد 194 ہے اور تقریباً 1500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اضلاع میں شانگلہ میں ہلاکتوں کی تعداد 50، سوات میں 37 اور چترال میں 32 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ بیشتر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا تھا لیکن اب بھی صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 250 سے زیادہ زخمی زیر علاج ہیں۔

سوموار کے روز آنے والے زلزلے سے سرکاری اور نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصانات پہنچے ہیں سوات اور شانگلہ میں کوئی 7000 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوات حیونیورسٹی زلزلے سے متاثر ہوئی ہے اور انجینیئرز وہاں پہنچے ہیں تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے کے کیا اس عمارت کو استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اسی طرح ملاکنڈ یونیورسٹی میں ایک سکول کو بہت نقصان پہنچا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ان متاثرہ علاقوں میں خیمے، کمبل اور چٹائیوں کے علاوہ دیگر امدادی سامان بھیجا گیا ہے اور مزید امداد پہنچائی جا رہی ہے ۔
اس بارے میں مختلف علاقوں سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان تک پہنچنے والی امداد بہت کم ہے۔
چترال کے ایک گاؤں سے لوگوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں 90 مکان مکمل تباہ ہوئے جبکہ 50 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے لیکن انھیں صرف 50 خیمے دیے گئے ہیں۔
جن علاقوں میں زلزلے سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں وہاں موسم انتہائی سرد ہو چکا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر مکانات کی تباہی کے بعد لوگ مشکل صورتحال میں ہیں۔ اکثر متاثرین کا کہنا تھا کہ امداد سامان میں تاخیر سے ان کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔







