زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 272، امدادی کام جاری

،تصویر کا ذریعہOther
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق پیر کو آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 272 ہو گئی ہے جبکہ 1909 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
زلزلے سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں تازہ ترین خبروں کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 225 اور زخمیوں کی تعداد 1706 ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع شانگلہ میں ہوئیں جہاں 50 افراد ہلاک ہوئے۔
چترال سے 32 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم وہاں کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہے اور متعدد کچی بستیاں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
قبائلی علاقے فاٹا میں بھی تباہی ہوئی ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر چکی ہے۔ سب سے زیادہ باجوڑ ایجنسی متاثر ہوئی جہاں 21 ہلاکتیں ہوئیں اور 300 سے زیادہ مکانات تباہ ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار میں مکانات کے تباہ ہونے کے ضمن میں خاصا فرق پایا جا رہا ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں 12968 مکانات تباہ ہوئے ہیں لیکن پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے میں تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 15689 ہے۔
اسی طرح این ڈی ایم نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں تباہ ہونے والے مکانات کی تعداد 300 بتائی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ تعداد 1700 ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے کی جانب سے اب تک سامنے آنے والے اعداد و شمار میں صرف چار اضلاع کے تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصان کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہOther
پی ڈی ایم کے اہلکار یوسف ضیاء نے بی بی سی اردو کی حمیرا کنول کو بتایا کہ اب تک کل 155 تعلیمی اداروں کی تباہی کی خبر موصول ہوئی ہے تاہم ابھی دیگر علاقوں سے مزید اعداد و شمار موصول ہو رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ تعلیمی ادارے ضلع ٹانک میں متاثر ہوئے جن کی تعداد 53 ہے جبکہ دیر بالا میں 45 سکول تباہ ہوئے۔
لکی مروت میں تباہ ہونے والے سکولوں کی تعداد 34 ہے جبکہ صوابی میں آٹھ تعلیمی ادارے تباہ ہوئے ہیں۔
بنوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی مکان کو نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے تاہم وہاں بھی 15 سکول زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔







