ایدھی فاؤنڈیشن کا بھارتی حکومت سے امداد لینے سے انکار

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ایدھی فاؤنڈیشن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا لیکن امدای رقم لینے سے معذرت کر لی ہے۔
فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے امداد کے اعلان سے انھیں دلی مسرت ہوئی ہے تاہم وہ ایدھی فاؤنڈیشن کی پالیسی کی وجہ سے کسی بھی حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد قبول نہیں کرسکتے۔
فیصل ایدھی کے مطابق یہ فیصلہ منگل کو عبدالستار ایدھی سے مشورے کے بعد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے13 سال قبل سمجھوتہ ایکپریس کے ذریعے غلطی سے پاکستان میں داخل ہونے والی سماعت اور قوت گویائی سے محروم لڑکی گیتا کی گذشتہ روز بھارت واپسی کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا تھا۔
نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ ’گیتا کا خیال رکھنے پر ایدھی خاندان کا الفاظ میں شکریہ ادا نہیں کیا جاسکتا اور وہ رحم دلی اور ہمدردی کے فرشتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
فیصل ایدھی نے بتایا کہ اُنھوں نے بھارت کے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ یہ رقم بھارت میں گونگے، بہرے بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیم کو عطیہ کردیں۔
انھوں نے اس خیال کی سختی سے تردید کی کہ بھارت کے وزیر اعظم کی جانب سے امداد قبول کرنے کی صورت میں انھیں پاکستان میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
فیصل ایدھی نے بتایا کہ’کچھ عرصہ قبل جاپان کی حکومت نے ایدھی فاؤنڈیشن کو ایک سو ایمبولینسز کا عطیہ دینے کی پیشکش کی تھی مگر انھوں نے اس سے بھی انکار کر دیا تھا اور بعد میں وہ ایمبولینسز پنجاب حکومت کے استعمال میں آگئی تھیں۔‘
انھوں نے ایک بار پھر واضع کیا کہ کسی بھارتی شہری یا عوام کی جانب سے اگر امداد آئے تو انھیں اس سے اعتراض نہیں البتہ کسی بھی حکومت اور امداد دینے والے ادارے کی جانب سے ایسی کسی بھی پیشکش کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
فیصل ایدھی نے کہا کہ وہ نریندر مودی کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے گیتا کے معاملے پر سشما سوراج کو مدد کے لیے کہا اور اس طرح گیتا بھارت پہنچ گئی اب اس کے لیے اپنے خاندان کو ڈھونڈنا آسان ہوگیا ہے۔







