بلوچستان: سکیورٹی آپریشن میں تین ’عسکریت پسند‘ ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام نے سکیورٹی فورسز کی طرف سے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے سرچ آپریشنوں میں تین عسکریت پسندوں کو ہلاک اور سات کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ سرچ آپریشن دو مختلف اضلاع واشک اور کوہلو میں کیے گئے۔
کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کی جانب سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئیں ہیں ان کے مطابق ضلع واشک میں دو مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیے گئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بیسیمہ اور بلوچ آباد کے علاقوں میں ہونے والی کاروائیوں میں فائرنگ کے تبادلے میں دو عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ ان علاقوں سے چار افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بیسیمہ کے علاقے میں ہونے والی ایک اور کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والا ایک کمانڈر ہلاک ہوا ہے۔ اس کارروائی کے دوران مختلف نوعیت کا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق تیسری کارروائی ضلع کوہلو کے علاقے فاضل چل میں کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق کے الزام میں تین افراد کو گرفتارکیا گیا۔ تاحال اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں لیکن گزشتہ سال پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد سے نہ صرف سرچ آپریشنوں بلکہ گرفتاریوں میں بھی تیزی لائی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے مطابق اب تک ان کارروائیوں میں کالعدم عسکریت اور شدت پسند تنظیموں سے تعلق کے شبہے میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔



