کاش حکومتوں کی بھی ناک ہوتی

،تصویر کا ذریعہMSF
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
افغانستان میں ویسے تو پاکستان کی حامی بہت کم ہیں لیکن ایسا بھی کیا کہ عجیب و غریب کہانیاں بنانی شروع کر دی جائیں۔
شمالی صوبے قندوز پر طالبان کے مختصر قبضے کے بعد چند افغان حکام نے اس معاملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا راگ الاپنا شروع کیا۔
انھیں ’برقعوں میں فرار ہوتے ہوئے جنرل‘ بھی دکھائی دیے اور ایک ہپستال میں پاکستانی شدت پسند جنگجو بھی لیکن اس سے زیادہ سنگین الزام تو پرانے حلیف امریکہ کی جانب سے سامنے آیا۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے اپنی ایک خبر میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے لکھا کہ امریکی خفیہ ایجنٹس کو شک تھا کہ قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال کو پاکستانی خفیہ اہلکار حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق فضا سے کی جانے والی جاسوسی نے بتایا کہ اس ہسپتال کو ایک پاکستانی خفیہ ایجنٹ طالبان کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔
خود بین الاقوامی امدادی تنظیم ایم ایس ایف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اسے اس الزام پر امریکیوں پر شدید غصہ بھی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ حملے کا ہدف ایک ہسپتال اور محض ہسپتال تھا اور کچھ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان تو اس قسم کے الزامات کا کافی عادی رہ چکا ہے لیکن ایک غیرجانبدار امدادی تنظیم پر اس قسم کا الزام ان کے لیے مستقبل میں کافی سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس قسم کے ادارے پاکستان میں بھی انتہائی مشکل علاقوں میں متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔
ان علاقوں میں انھیں رسائی ہی اس بنیاد پر ملتی ہے کہ وہ مکمل طور پر غیرجانبدار رہیں گے اور کسی ایک فریق کی انسانی بنیادوں کے علاوں کوئی دوسری امداد نہیں کریں گے۔
ان کے نام پر اس قسم کا اگر کوئی دھبہ لگتا ہے تو ان کا کام کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور تنظیم کا وجود بےمعنی ہو سکتا ہے۔
امریکہ نے قندوز کے اس ہسپتال پر حملے پر افغان حکام اور ایم ایس ایف سے تو معافی مانگ لی ہے لیکن پاکستان کو اس قابل بھی نہیں سمجھا۔
اب وزیر اعظم نواز شریف امریکہ روانہ ہوچکے ہیں جبکہ آئی ایس آئی کے سربراہ بھی وہاں سے اخباری اطلاعات کے مطابق کئی مصروف دن گزار کر واپس وطن لوٹ چکے ہیں۔
یقیناً یہ موضوع نہ پہلے اٹھایا گیا ہوگا اور نہ آئندہ چند دنوں میں اٹھایا جائے گا لیکن بہتر ہوگا کہ اگر الزام تبھی عائد کیا جائے جب اس کے دو پاؤں نہ سہی کم از کم ایک تو ہو۔
والٹ ڈزنی کی ایک فلم میں ’پنوکیو‘ نامی کردار کو دکھایا گیا تھا جس میں جب جب وہ غلط بیانی سے کام لیتا تو اس کی ناک بڑھ جاتی تھی۔
کاش حکومتوں کی بھی ناک ہوتی۔







