’پاکستانی خفیہ اہلکار کی قندوز میں موجودگی کی خبریں بےبنیاد‘

رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر حملہ کیا تھا جس میں طبی عملے اور مریضوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہMSF

،تصویر کا کیپشنرواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر حملہ کیا تھا جس میں طبی عملے اور مریضوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان نے افغانستان کے شہر قندوز کے ہسپتال میں امریکی حملے کے وقت پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے کارکن کی موجودگی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے قندوز کے ہسپتال کے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے زیر استعمال ہونے سے متعلق غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان ایسے الزامات کی تردید کئی مرتبہ پہلے بھی کر چکا ہے۔‘

بی بی سی اردو کی سارہ حسن کے مطابق ترجمانِ دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور اب بھی ہم افغان مصالحتی عمل میں معاون کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک خبر شائع کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ قندوز میں غیر ملکی امدادی ادارے میدیساں ساں فرنتیر (ایم ایس ایف) کا ہسپتال پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ’آپریٹیو‘ کے زیر استعمال تھا اور آئی ایس آئی اس ہسپتال کو طالبان سے رابطے کے لیے استعمال کرتی تھی۔

پاکستان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا
،تصویر کا کیپشنپاکستان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا

اے پی کے مطابق امریکی فورسز نے مذکورہ ہسپتال پر فضائی حملہ وہاں ایک پاکستانی کی موجودگی کی اطلاع پر کیا، جو انٹیلیجنس معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان کی سرگرمیوں کو مربوط کر رہا تھا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہماری افغان پالیسی کی بنیاد افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

اے پی میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق انٹیلجینس اطلاعات کے مطابق قندوز میں ایم ایس ایف کا ہسپتال طالبان کے ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ وہاں بھاری ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی موجود تھا۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ خیال جا رہا ہے کہ ہسپتال پر امریکی حملے میں مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ کام کرنے والا ’آلۂ کار‘ بھی مارا گیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ نے قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر حملہ کیا تھا جس میں طبی عملے اور مریضوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوئے تھے۔