پشاور حملے میں افغان سرزمین استعمال ہونے کا دعویٰ مسترد

،تصویر کا ذریعہGetty
افغان حکومت نے پاکستانی حکام کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پشاور میں فضائیہ کے کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی۔
جمعے کی صبح بڈھ بیر میں قائم فضائیہ کے کیمپ ہونے والے اس حملے میں 26 فوجیوں سمیت 43 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 14 حملہ آور بھی تھے۔
<link type="page"><caption> ’حملے کا منصوبہ افغانستان میں بنا اور وہیں سے کنٹرول ہوا‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/09/150918_ispr_bajwa_presser_badhbir_attack_fz" platform="highweb"/></link>
اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی جبکہ پاکستانی فوج کے ترجمان نے حملے کے بعد بریفنگ میں کہا تھا کہ حملے کی سازش افغانستان میں تیار ہوئی اور دہشت گردوں کو وہیں سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
افغان ایوان صدر کے نائب ترجمان سید ظفر ہاشمی نے اس بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ افغانستان کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کی سرزمین سے کسی ملک پر حملہ کیا جائے اور ان کا ملک تو خود تشدد اور دہشت گردی کا شکار ہے۔
ترجمان نے سنیچر کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان دعوؤں کو، جن میں کہا گیا ہے کہ اس حملے کی تیاری اور اس پر عمل افغانستان سے کنٹرول کیا گیا، بےبنیاد سمجھتے ہیں اور ان کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور کسی کے بھی مقابلے میں ہمیں اس کی اذیت کا زیادہ احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم پشاور میں گذشتہ روز کے واقعہ کا نشانہ بننے والوں کے دکھ میں شریک ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ظفر ہاشمی نے کہا کہ ’ہم کسی بھی شخص، گروہ یا حکومت کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ دوسرے ملکوں پر حملے کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال کرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل باجوہ نے جمعے کی شام صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کارروائی کے دوران خفیہ اداروں نے حملہ آوروں کی جو گفتگو سنی اُس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پاکستان کے ایک گروہ سے تھا، تمام حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور انہیں وہیں سے ہدایات بھی مل رہی تھیں۔
تاہم افغانستان کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’افغانستان میں اگر پٹاخہ بھی چلتا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر دی جاتی ہے‘ لیکن وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ افغانستان کی ریاست اس حملے میں ملوث ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ یہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور یہ کہ افغانستان میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں حکومت کی عملداری نہیں ہے۔
پاکستان نے گذشتہ برس وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا جس کے بعد خیال ہے کہ بہت سے پاکستانی شدت پسند افغانستان میں قائم محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے۔
پاکستان کا دعوٰی ہے کہ آپریشن کے بعد ملک میں شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ تاہم آپریشن کے بعد سے اب تک ہونے والے کئی حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند اب بھی منظم ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔







